کفرکا معاشرہ چل سکتا ہے مگرظلم و ناانصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا:چیف جسٹس

Published on April 11, 2018 by    ·(TOTAL VIEWS 321)      No Comments

کوئٹہ(یواین پی)چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قانونی سقم رہ جائے تو اس کی ذمے داری ججزکی بنتی ہے، کفرکا معاشرہ چل سکتا ہے مگرظلم و ناانصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وکلا اس عدالتی نظام کی بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ججز عام قاضی نہیں ہیں، بلکہ ان کے ذمے بہت ساری اہم ذمہ داریاں ہیں۔محسوس کررہاہوں کہ قاضی صلاحیتوں کومطلوبہ معیارکے مطابق استعمال نہیں کررہے۔حیران ہوں کہ وہ قابل ججزکہاں گئے،جن کے فیصلے موتیوں سے لکھے جاتے تھے ، ان ججز کے فیصلے سپریم کورٹ آتے تو تبدیل نہ ہوتے۔ بے انصافی پر مبنی معاشرہ نہیں چل سکتا،کسی بھی معاشرے میں انصاف ہونا ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مرضی کے فیصلے نہیں کرتے ، آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں ۔مقدمہ بازی معاشرے کی بیماری ہے۔ہم یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ انصاف فراہم کررہے ہیں۔پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں نہایت قابل ججز گزرے ہیں۔فراہمی انصاف کی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔انصاف،عدل کی بنیادوں کومضبوط نہیں کرپائے تواللہ کے سامنے کیسے سرخروہونگے۔انہوں نے کہا کہ انکے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں۔ہم مقدمات کو اتنی طوالت کیوں دیتے ہیں۔اس قانون پر ہی عمل کرلیں تو انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوسکے گی۔40،40سال مقدمے برداشت کرنیوالوں میں کوئی ایک تو متاثر ہورہا ہے۔اپنے حق کیلیے 40 سال انصاف کا منتظر فردکیا روزجیتا اور مرتا نہیں۔ہم انصاف سے پہلو تہی کریں ، یہ ممکن نہیں۔
ثاقب نثار نے کہا کہ قانونی سقم رہ جائے تو اس کی ذمے داری ہماری بنتی ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گھر کو درست کریں۔کوئی بھی فیصلہ دینے کیلیے قانون اور آئین کا مکمل پتا ہونا چاہیے۔کسی بھی معاشرے میں انصاف کا ہونا ضروری ہے۔ججز کو انصاف کی فراہمی میں شوق اور جذبے سے کام کرنا ہوگا۔جج اور قاضی ہونا عزت کی بات ہے اس کو برقرار رکھنا چاہیے ۔چار چار سال مقدمہ پھنسا رہتا ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب تک قانون کی تربیت نہیں ہوگی،انصاف کی فراہمی میں دیرہوگی۔ایک سول جج،جوڈیشل مجسٹریٹ اورجج کے فرائض میں کوئی تفریق نہیں سمجھتا۔ہم نے قانون کے مطابق فیصلے کرناہیں۔عدلیہ ریاستی ادارہ ہے جس کے بغیر اس کا قیام ناممکن ہے۔ بلوچستان سےجوڈیشل ریفارمز کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔کفرکا معاشرہ چل سکتا ہے مگرظلم و ناانصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Weboy