بزم اکبر سے بزم اقبال تک

Published on August 11, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 179)      No Comments


تحریر۔۔۔ میر افسر امان
ہم نے اقبال ،قائد ،مودودی فکری فورم پر کام شروع کیا ہوا ہے ۔جہاں سے بھی ان تینوں کے متعلق کچھ کچھ مواد ملتا ہے میری لائیربریری کاحصہ بنتا جا رہا ہے۔زیر تبصرہ کتاب” مولائے اکبر الہ آبادی ؒاور علامہ شیخ محمد اقبالؒ سے متعلق بنام :۔”بزم اکبر سے بزم اقبال تک“ جناب ریاض احمد چودھری سیکر ٹیری ڈاریکٹر بزمِ اقبال نے تحفتاً بھیجی تھی۔اس کتاب کی تمہید میں اس کتاب کی تالیف کرنے والے ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار لکھتے ہیں کہ اکبر الہ آبادی جو انیسویں صدی کے رُبع آخر میں بر عظیم جنوبی ایشیا میں ایک عاحزنہ ودردمندانہ صدا اُٹھی تھی، جس نے بظاہر تو شوخی وظرافت کا دلفریب رنگ تھا مگر باطن میںغم و الم،حُزن و یاس اورکرب و اضطرب کا طوفا چُھپا ہوا تھا۔ یہ پیش روِ اقبال اکبر الہ آبادی تھے۔ اکبر الہ آبادی کو آفیشل عزت تو بہت ملی کیونکہ عدلیہ میں ایک ہندوستانی اُس زمانے میں جس بلند رُتبے تک پہنچ سکتا تھا، اکبر وہاں پہنچے۔ مگر قومی عزت و وقار کے گم ہونے اور آزادی کے چھن جانے کے شدید احساس نے اکبر کو غم زدہ کیے رکھا۔ غم و الم کے ان آنسوﺅں کو اُنہوں نے ظرافت کے قہقوں میں چھپانے کی بہت کوشش کی اور اس طرح وہ اُردو میں ایک نئے اَسلوب شاعری کے موجد بن گئے جو اُنہی سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہو گیا۔ یہ اَسلوب فکر جمع فن ایک عہد کی سیاسی اور تہذیبی کشمکش کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھے۔ اس میںمشرقی تہذیب کی شکست و ریخت اور مغربی تہذیب کی تباہ کن یلغار کے دل شکن مناظر بھی ہیں اور مغرب کی سیاسی اور تہذیبی فتوحات کے خلاف اکبر کے جہاد بالقلم کے حواصلہ افزا پیغام بھی ہیں۔یہ آویزش بھی تاریخی تھی اور لسان العصر اکبر کا اُسلوب اور ان کی عاجزانہ و درد مندانہ صدا بھی تاریخی اہمیت حاصل کر گئی۔کتاب میں ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار نے لِسان العصر اکبر الہ آبادی کے ردیف کی ترتیب سے سو(۰۰۱) اشعار جمع کیے ہیں ۔ یعنی پہلے شعر کے آخر میں الف اور آخرے شعر کے آخر میں ہے ۔ اس کتاب کا انتساب پاکستان میں بزم اکبر کے بانی چوہدری نذیر احمد خان کے نام سے کیا۔ چودھری نذیر احمدآل انڈیا مسلم لیگ کے معروف رہنما تھے۔ انتخاب ۶۴۹۱ءکے بعد وہ دستور ساز اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ چودھری صاحب کی اکبر الہ آبادی سے خط و کتاب بھی رہی۔چودھری صاحب نے قابل قدر قومی خدمت انجام دی کہ اکبر کے حیات و کلام کی نشر واشاعت کی خاطر کراچی میں”بزم اکبر“ قائم کی جس کے وہ صدر تھے۔چودھری صاحب جب کراچی سے لاہور ر شفٹ ہوئے تو ”بزم اکبر“ بھی ان کے ساتھ لاہور منتقل ہوئی۔ اور بزم اکبر کا مرکز بھی لاہور بن گیا۔ لکھتے ہیںیہ عجیب اتفاق ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد کراچی میں ”بزم اکبر“ اور لاہور میں” بزم اقبال“ دونوں قومی اداروں کا قیام بیک وقت ہوا۔” بزم اکبر“ چودھری نذیر احمد خان کی سرپرستی میں ہوا اور ”بزم اقبال“ کا قیام قائد اعظمؒ کے دست راست سردار عبدلرب نشتر گورنر پنجاب کی سرپرستی میں ہوا۔”بزم اکبر اوربزم اقبال“ کے رو رواں ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار صاحب ہیں۔ ان کے علاوہ پروفیسر داکٹر خواجہ محمد زکریہ نے بھی ۰۶۹۱ءسے اکبر کا خصوصی تحقیقی مطالعہ کیا اور کتاب”اکبر الہ آبادی“ تالیف کی۔ یہ کتاب تین بار شائع ہو کر مقبول عام ہوچکی ہے۔ اسی مضمون پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی اور تحقیق کا حق ادا کر دیا تھا۔ کتاب ” بزم اکبر“ کی طبع ثانی کو پیش کرتے ہوئے اس کا نام ” بزم اکبر “سے ”بزم اکبر سے بزم اقبال تک “کر دیا گیا۔ جیسا کی پہلے عرض کیا ہے کہ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار صاحب نے اکبر الہ آبادیؒ کے سو اشعار اس کتاب میں جمع کیے اور ان کی ترتیب اشعار کے معنی کے بجائے، اشعار کے دریف کی ترتیب سے جمع کیے۔ہر شہر کی تشریع بھی لکھی جو راقم نے من وعن بیان کر دی۔ اس کتاب میں درج پہلا شعر جو کو اکبر الہ آبادیؒ کو سمجھنے میں مدگار ہے۔ وہ یہ ہے:۔
خدا کی پاکی بیان کرتا ہوں ،ہوا کرے ناخوشی بتوں کو۔
ِمِری غرض کچھ نہیں کسی سے تو پھر مرا کوئی کیا کرے گا۔
اس شعر میں اکبر نے اپنا بنیادی عقیدہ اور مسلک بیان کیا ہے جو ان کی شاعری میں رُوع کی طرح موجود ہے۔اکبر خدا کی پاکی بیان کرتا ہے ۔اگر بت( انگریز یا انگریزی حکومت، الحاد اور بے دینی کی قوتیں ) ناخوش وناراض ہوتے ہیں تو ہوا کریں۔ ایک شعر میں اکبر کہتا ہے کہ:۔
پرانی روشنی میں اور نئی روشنی میں فرق اتنا ہے
اِسے کشتی نہیں ملتی اُسے ساحل نہیںملتا
یہ شعر قدیم اور جدید تہذیبی رجحانات کی کشمکش کے متعلق ہے، جو اکبر کے زمانے، انیسویں صدی میں بڑی نازک صورت اختیار کر چکی تھی۔ایک شعر میں اکبر کہتا ہے کہ:۔
یہی فرماتے رہے ،تیغ سے پھیلا اسلام
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے
تشریع کرنے والے نے تو اِسے مغرب کی ایجادات سے جوڑا ہے کہ اس سے تباہی پھیلی یا انسانیت کی کچھ بھلائی کا کام بھی ہوا۔ مگر راقم تو اس کا سیدھا سا مطلب اُس ظلم سفاکیت کے ساتھ جوڑتا ہے جو ۷۵۸۱ءکی جنگ آزادی کے بعدمسلمانوں کو توپوں کے سامنے باندھ کر اڑا دینے اور برعظیم کے شاہراہوں کے درختوں کے ساتھ لاشوں کو لٹکایا گیا تھا۔
ایک شعر میں اکبرکہتا ہے کہ:۔
حکم انگلش کا ملک ہندو کا
اب خدا ہی ہے بھائی صلّو کا
قیام پاکستان کے جواز میں سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔مگر اکبر کا یہ شعر ان اسباب کی بخوبی وضاحت کرتا جن کی بنا پر پاکستان کا ظہور میں آنا،ناگزیر ہو گیا تھا۔ انگریز کے اقتدار میں کسی اعلان سے پہلے یہ الفاظ فضا میں گونجا کرتے تھے۔” خلقت خدا کی، ملک بادشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا“ایک شعرمیں اکبر کہتا ہے کہ:۔
آنے والے نہ رہے انجمنِ دل کی طرف
کوئی کالج کی طرف ہے کوئی کونسل کی طرف
اکبر اس شعر میںقومی انتشار اور ملت کی لامرکزیت کا عبرت انگیزمنظر پیش کرتے ہیں۔ انجمنِ دل استعارہ ہے ملتِ اسلامیہ کی یکجہتی، اتحاد اور اخوت و محبت کی طرف ، جبکہ کالج اور کونسل اکبر کی مخصوص شعاری کی علامات میں دو اہم علامتیں ہیں جو برطانوی عہد حکومت کے تعلیمی اور سیاسی اداروں کے لیے انہوں نے استعماری اغراض و مقاصد تھے۔
ایک شعر میں اکبر کہتا ہے کہ:۔
حریفوں نے رپٹ لکھوائی جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر ذکر تا ہے خدا کا اس زمانے میں
اکبر کازمانی مغربی فلسفوں، سائنس کے عروج کا زمانہ تھا۔ یہ عقلی علوم مادیت کی بنیاد پر اُستوار تھے۔ مذہب کامذاق اُڑیا جا رہا تھا۔ اکبر اپنے فن کے ذریعے جہاد کر رہے تھے۔ اس لیے وہ ملحد اور بے دین طبقے کی تنقید کا نشانہ بن رہے تھے۔پہلے قدامت پرست اور رجعت پسند اور بیاد پرست کہا جارہا ہے۔ جبکہ اکبر کو اس رجعت پسندی پر فخر تھا۔ایک شعر میں اکبر کہتا ہے کہ:۔
یوںقتل سے بچوں کے وہ دبدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سُوجھی
اکبر کا مغربی سامراجی تعلیم پر ایک بھر پور طنز تھا۔یہ ایک شعر برطانوی عہد کے نظام تعلیم پر لکھی گئی کئی کتابوں میں اور مضامین پر بھاری ہے۔ اکبر کہتا ہے کہ فرعون تو قتل کر دیتا تھا ۔ فرعون کاکو کوئی لارڈ میکالے جیسا نہیں ملا۔ جو فرعون کو ایسی تعلیم بتاتا کہ قتل کی بجائے برین واشنگ کی جائے۔ اس سے فرعون قتل کے الزام سے بچ جاتا۔ اکبر ایک شعر میں کہتاکہ
نہ مدح بُت سے نہ آرائشِ کلام سے ہے
مِری زبان کی عزت خُدا کے نام سے ہے
”بزم اکبر“ کا آغاز بھی اللہ کے پاک نام سے ہوا تھا اور اس کا اختتام بھی خُدائے پاک کے نام پر ہو رہا ہے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے یا رُوح اکبر کا فیض ! توحید اکبر کے کلام کا مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد باقی سب باتیں گھومتی پھرتی ہیں۔اس شعر میں اکبر نے اپنے فن کے بارے میں جو بات کہی ہے وہ اُن کی تنقیدِ شعری کے حوالے سے خاس اہمیت کی حامل ہے۔صاحبو! ہم نے توالت سے بچنے کے لیے ہم نے اس کتاب کے سو اشعار میں سے چند شعر لیے ہیں۔ ورنہ پیش رو اقبالؒ اکبر الہ آبادیؒ کی پوری شعری مسلمانوں کی اس دور کی روداد بیان کر تی ہے۔ اس زمانے کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اکبر کی ساری شعری پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔راقم تو ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کی اس تحریر کو آخر میںپیش کرنے کی جسارت کرتا ہے۔”اسلامی پسپائی کا زمانہ ختم ہوا۔ اب اس کی کارفرمائی کا دور شروع ہو رہا ہے۔اس عالم میں اقبال اور اکبر اسلامی دنیا کے بہت بڑے فکری رہنما ثابت ہو سکتے ہیں۔ اقبال کے سامنے اس عصر نو کی سحر بے حجاب تھی۔ اکبر شب رفتہ کے مسافر تھے۔ لیکن اس مرد حق آگاہ نے کفر و الحاد کی اس شب تیرہ وتار میں بھی حجازی تہذیب کے چراغ نیم شمی کو اپنے آنسوں کی لَو سے روشن رکھا اور اعلائے کلمة الحق سے منہ نہ موڑا!

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Weboy