پاکستانی دستاویزی فلم “بیئرفٹ” نے امریکی ریاست فلوریڈا سے ایوارڈ حاصل کر لیا

Published on September 29, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 104)      No Comments

فلوریڈا، امریکہ سے ایوارڈ جیت لیا خالد حسن خان کی دستاویزی فلم “بیئرفٹ” نے تیسرے سالانہ ایمرالڈ کوسٹ فلم فیسٹیول
کراچی (یواین پی)دستاویزی فلم “بیئرفٹ” پاکستان میں فٹ بال کے شمال اور جنوب سے تعلق رکھنے والے، دو سابقہ فٹبالرز اور موجودہ سوکرکوچز کی زندگیوں کے گرد، نوجوان نسل کے فٹ بال کھلاڑیوں کی فٹ بال سے لگاؤ کا دلچسپ احوال ہے۔ دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر خالد حسن خان نے کہا “یہ کھیل کی دستاویزی فلم سے زیادہ، ایک بین المذاہب اور بین الطباقاتی مکالمہ ہے، جہاں ہندو، میسحی اور زرتشت اقلیتی برادری کے مرد اور خواتین فٹبالرز کے علاوہ، پاکستان کے پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے فٹبالرز کی زندگیوں کوعسکس بند کیا گیا ہے”۔ فلم فیسٹویل کی بانی ڈیانا شینورٹ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ” فلم کے ذریعے ہی دنیا میں مثبت تبدیلی ممکن ہے، فیسٹول کا مقصد حوصلہ افزاء کہانیوں کو پروان چڑھانا ہے”۔
یہ دستاویزی فلم کراچی سے بنوں تک، فٹ بال کا احاطہ کرتی ہے۔ فلم کے ہدایت کار خالد حسن خان کا کہنا ہے کہ بنوں، پاکستان میں فٹ بال کا سب سے محاذ ہے، جہاں قبائلی علاقے کی سرحدیں، خیبر پختونخوا کی گنجان شہری آبادیوں سے ملتی ہیں ۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کسی طرح لیاری کے فٹبالرز نے خونی گینگ وار کے دوران، فٹبال کا جنون جاری رکھا، علاوه ازیں ماضی میں خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کی کارروائیاں، نوجوان فٹ بال کھلاڑیوں کے جذبے کو ختم نہیں کر سکیں۔ بنوں کے فٹ بال کوچ سیف اللہ خان کا کہنا ہے کہ اگر فٹ بال کے کھیل کو فروغ دیا جائے تو شدت پسندی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔احمد جان، سابق فیفا ریفری کے مطابق، “ایک بار محمڈن اسپورٹنگ کلب، ڈھاکا کے کپتان، دلیپ کمار سے ملنے فلم کے سیٹ پر پہنچے، تو اس عظیم فٹبالر کے احترام میں، فلم مغل اعظم کی شوٹنگ روک دی گئی۔ یہ کپتان محمد عمر تھا، جس کا تعلق لیاری، کراچی کے ہارلم یعنی لیاری سے تھا”۔ فلم میں پاکستان کی کثیرالثقافتی خوبصورتی کی مناسبت سے ہم آہنگ گیت بھی شامل ہے، جس کی شاعری اور دھن، کراچی کے گلو کار ماسٹرنند لال نے تخلیق کی ہے۔
فلم ہدایتکار کے مطابق “فٹ بال ایسا کھیل ہے جو مختلف مذاہب کے لوگوں اور سماجی طبقوں میں فاصلے دور کرنے کے علاوہ نئی نسل کو صحتمندانہ تفریح مہیا کرتا ہے اور معاشرہ میں عدم برداشت کے رویے ختم کرتا ہے۔ خالد حسن خان نے کہا “یہ دستاویزی فلم اب تک تین بین القوامی ایوارڈر جیت چکی ہے”۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Themes