چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانے کے تحائف کو بلیک مارکیٹ میں بیچا، عطا تارڑ

Published on July 22, 2023 by    ·(TOTAL VIEWS 32)      No Comments

اسلام آباد (یوا ین پی) وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین نے توشہ خانے کے تحائف کو بلیک مارکیٹ میں بیچا، ملکی تاریخ کا ایسا رہنما بتا دیں جس نے توشہ خانہ تحائف بلیک مارکیٹ میں بیچے ہوں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کو ڈکلیئر نہ کرنا جرم ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے آج تاریخ لی، تاریخ پر تاریخ لی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیس میں اب شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں، جرح ہو رہی ہے، آج تاریخ لینے کا کیاجواز تھا؟ آج بھی چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے راہ فرار اختیار کی، انہوں نے توشہ خانہ کے تحائف جو لیے وہ کیوں ڈکلیئر نہ کیے؟عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیں کہتے تھے کہ رسیدیں دو، خود گھر پر بیٹھ کر جعلی رسیدیں بنائی ہیں، کیا کل آپ کے وکیل کو زیب دیتا تھا کہ شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہوں اور وہ گھر چلے جائیں، انسانوں کی طرح عدالتوں میں پیش ہو جاؤ، جواب دو۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کبھی ایک تو کبھی دوسرا بہانہ کرتے ہیں، کبھی جج پر عدم اعتماد اور کبھی میری حاضری پر اختلاف، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کا فیصلہ ہو۔ان کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس11ماہ سے چل رہا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایک بار پیش ہوئے، نیب نے جب گرفتار کیا صرف تب وہ عدالت میں پیش ہوئے، توشہ خانہ کے تحائف قوم کا پیسہ تھا، اربوں روپے کے تحائف تھے، جرح کے دوران تاریخ پر تاریخ لینے کا کیا جواز تھا؟وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ سائفر کا جھوٹا بیانیہ اپنی موت مر چکا ہے، ایک طرف کرپشن ہے اور دوسری طرف جھوٹ ہے، آپ نے چوری اور سازش کی ہے، توشہ خانہ کیس میں آپ زیادہ دیر راہ فرار اختیار نہیں کر سکیں گے، عدالت پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے پریشر ڈالا ہے۔عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کیس سنا جائے، نواز شریف تو روز عدالت پیش ہوتے تھے اور بےگناہ ثابت ہوئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خانہ کعبہ والی گھڑی تک بلیک مارکیٹ میں بیچ دی، توشہ خانہ کیس چوری کا کیس ہے، چوری ثابت ہے، اعظم خان محب الوطن شخص ہیں، سائفرکےکیس میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش ہونا پڑےگا، جواب دینا پڑے گا۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress主题