اردو ادب کا بیڑا غرق

Published on December 4, 2023 by    ·(TOTAL VIEWS 65)      No Comments

تحریر ۔۔۔ زکیر احمد بھٹی
ایک وقت تھا جب لوگ اردو ادب سے دلی لگاؤ رکھتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارا تعلق اردو ادب سے ہے۔ اردو ادب سے منسلک احباب کی کوشش ہوتی تھی کہ ہم معاشرے کی آنکھ بنیں اور اپنے آس پاس ہونے والے واقعات کو قلم کی نوک پر لا کر اخبارات کے صفحات پر منتقل کرکے اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لائیں تاکہ معاشرہ کے مسائل حل ہو سکیں۔ وہ کالم ہو، افسانہ ہو، شاعری ہو یا سفر نامے اپنے دل و دماغ میں اٹھنے والے خیالات کو احسن طریقہ سے بزور قلم ہر عام و خاص تک باآسانی پہنچ جائے اور پڑھنے والے قارئین اسے سمجھیں اور سبق حاصل کریں کیونکہ وہ لکھی جانے والی تحاریر سبق آموز ہوتی تھیں۔ عوام الناس اُن تحاریر سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے ۔شب و روز گزرے، ماہ و سال گزرے اور حضرت انسان نے بھی اپنے دل و دماغ میں اٹھنے والی سوچوں کا دھارا بدلنے میں فخر محسوس کیا۔ سجنے والی ادبی محفلیں ریڈیو،ٹی وی،سینما،تھیٹر کے راستوں سے ہوتےہوئے انٹرنیٹ کی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گئیں۔ہم نے اپنے ادب کی اتنی بے ادبی کی کہ ادب اور ادیب گردشِ ایام میں بھولی بسری یادیں بن گئیں ۔ نت نئے ماڈلز کے موبائل فون اور اس پہ انٹرنیٹ کا تڑکہ ایسا لگا کہ ہماری نوجوان نسل نے انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے کی بجائے بے راہ روی کا شکار ہوکر اردو ادب کو تباہی کے دھانے لا کھڑا کیا۔ اردو ادب سے منسلک افراد نے جہاں اپنی سوچ کو عوام الناس تک پہنچانا تھا انہوں نے کاپی اور پیسٹ کا سہارا لیا اور اپنے نام سے پرنٹ میڈیا میں پبلش کرانا شروع کر دیا۔کاپی، پیسٹ کو فخر سمجھا گیا۔ آج کے اردو ادب کا بیڑا غرق کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ میڈیا اور انٹرنیٹ کا ہے ،کاپی پیسٹ اور شہرت کے دلدادہ افراد نےکبھی اس بات پہ غور ہی نہیں کیا کہ جو شاعری عوام کو سنانے جارہے ہیں بحر،وزن،قافیہ اور دریف درست بھی ہیں یا نہیں بس آؤ دیکھا نہ تاؤ جھوٹی شہرت کی تسکین کے لئے پبلش کرانا ہی اولین ترجیح سمجھا۔ آج کے وقت میں جس کو کچھ نہیں آتا وہ بھی شاعر بنا ہوا ہے۔ایسے کئی جھوٹے شاعروں کو ہم بخوبی جانتے ہیں جن کو شاعری کی اصناف کا ہی نہیں پتا کہ شاعری اصل میں ہوتی کیا ہے اور ایسے احباب کی آج کل بھر مار ہے جو اپنے آپ کو شاعر کہتے ہیں۔ اور رہی بات ایک تحریر کی تو چند تحریریں شائع ہونے کے بعد ایک پوسٹ تیار کی جاتی ہے کہ ہم ایک کتاب تیار کروا رہے ہیں اس کے لئے آپ ایک تحریر ارسال کیجئے۔ اس کے بعد ہم ایک کو ایک کتاب اور سرٹیفکیٹ تحفہ دیں گے۔ جس کے لیے لکھنے والے سے 15 سو سے لے کر 3 ہزار روپے تک تقاضا کیا جاتا ہے اور اپنے نام کے شوقین حضرات خوشی خوشی یہ رقم جو ہدیہ بتا کر لی جاتی ہے اور بعد میں پھر مختلف لوگوں سے شکایت کرتے ہیں کہ کتاب کا نہ کوئی معیار ہے اور نہ ہی کوئی کام کی تحریر ہے جس سے کوئی سبق یا نصیحت ملے۔ ایسے کم عقل احباب سے گزارش ہے کہ وہ غور کریں کہ جو آپ سے پیسے لے کر آپ کی تحریر شائع کر رہے ہیں، کیا وہ تحریر کے معیار کی بھی جانچ کرتے ہیں ؟کتاب تیار کرنے والوں کی نظر آپ کی تحریر پر نہیں بلکہ پبلشر کی پاکٹ پر ہوتی ہے ان کی نظر ان پیسوں پر ہے جو وہ فراڈ بازی سے ہدیہ کے نام پر آپ سے لیتے ہیں۔ آج معاشرے میں اردو ادب کا بیڑا غرق میں یہ افراد بھی شامل ہیں۔نئے لکھنے والوں سے التماس ہے کہ اپنے سینئرز کو عزت دیں کاپی پیسٹ کو چھوڑیں اپنے دل و دماغ میں اٹھنے والے اچھے خیالات کو اپنے قلم کی نوک پرسجا کر اپنے سینئرز سے رہنمائی لیں ایک اچھی اور بہترین تحریر سامنے لانے کے لئے خوب محنت کریں اس کی نوک پلک سنوارنے کے لئے کاپی پیسٹ نہیں بلکہ سینئرز سے رہنمائی لیں سینئرز کی رہنمائی آپ کو شہرت کی بلندیوں تک لے جائے گی۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress Themes