چین، پرندوں کی خوبصورتی اور لوگوں کا روزگار

Published on April 2, 2024 by    ·(TOTAL VIEWS 26)      No Comments

بیجنگ (یو این پی) چین کے صوبہ جیانگ سو میں ایک انٹرنیٹ صارف نے سوشل میڈیا پر ایک خوبصورت سفید پرندے کی تصویر پوسٹ کی ہے اور ساتھ ہی پرجوش انداز میں لکھا: “کیا ماحولیات میں اب اتنی بہتری ہے ؟ میں نے حقیقتی اورینٹل سفید سارس Oriental White Stork)) دیکھا ہے ! یہ کھیت میں ہے! واقعی سبز پہاڑ اور سشفاف پانی انمول اثاثے ہیں.!”اورینٹل سفید سارس کو IUCN آئی یو سی این ریڈ لسٹ میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں رکھا گیا ہے اور یہ چین کے نیشنل فرسٹ کلاس محفوظ جنگلی جانور کی فہرست میں شامل ہے۔ عالمی سطح پر، جنگلی اورینٹل سفید سارس کی تعداد 7,000 سے 9,000 کے درمیان رہ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے حفاظتی اقدامات کے ایک سلسلے میں اس کے رہنے کے ماحول کو مؤثر طریقے سے بہتر بنایا ہے۔ اب اس پرندے کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت، بیجنگ میں پرندوں کے شوقین افراد نے حال ہی میں ایک درجن سے زائد اورینٹل سفید سارس کا مشاہدہ بھی کیا ہے جو کہ گزشتہ دس سالوں میں بیجنگ میں مشاہدہ کیے جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔اورینٹل سفید سارس کے علاوہ، بیجنگ میں پرندوں کے شائقین نے اس سال اور بھی کئی پرندوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔ جیسے کہ سائبیرین سارس ۔یہ بھی” نیشنل فرسٹ کلاس سیف برڈ “ہے اور IUCN ریڈ لسٹ میں اس کی درجہ بندی Critical Endangered میں ہے یعنی کہ یہ معدومیت کے انتہائی خطرے سے دوچار ہے۔ اس سال لوگوں نے بیجنگ کی آب گاہ “شا حہ” میں دو سائبیرین سارس دیکھے جو حالیہ برسوں میں بیجنگ میں پہلی بار اس طرح دیکھے گئے ہیں ۔ چائنیز بلیک ہیڈڈ گل (Chinese Black-headed Gull) ایک اور پرندہ جسے آج کل بیجنگ میں دیکھا گیا ہے ۔اس کی تعداد ایک زمانے میں 2,000 سے بھی کم تھی تاہم برسوں کی محنت کے بعد چین میں اس کی تعداد اب سینکڑوں میں ہے۔جیسا کہ اس انٹر نیٹ صارف نے لکھا تھا، نایاب پرندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد حیاتیاتی ماحول کی بہتری کا براہ راست نتیجہ ہے، اور یہ ” سبز پہاڑ اور سشفاف پانی انمول اثاثے ہیں ” کی ایک بہترین تشریح بھی ہے۔ پرندے عام طور پر کم انسانی مداخلت اور اعلیٰ حیاتیاتی ماحول والے علاقوں کو پسند کرتے ہیں۔ پرندوں کے تحفظ کے لیے چین نے بہت سے حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر، جن پرندوں کا ذکر ابھی ہوا یہ پرندے عام طور پر آبی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان پرندوں کے تحفظ میں چین نے پرندوں کی افزائش کے علاقوں کی تعمیر کی اور دلدلی علاقوں کے تحفظ کے لیے کھیتی باڑی اور ماہی گیری پر پابندی لگائی ۔ان اقدامات نے مؤثر طریقے سے ان علاقوں میں ماحولیات اور آبی پرندوں کے رہنے کے ماحول کو بہتر بنایا ہے۔لیکن ایک سوال ممکن ہے کہ کیا کھیتی باڑی اور ماہی گیری پر پابندی لگانے سے مقامی لوگوں کا روزگار متاثر نہیں ہو گا ؟ اس کا جواب واضح ہے۔ اڑنے والے پرندے نہ صرف مناظر کو خوبصورت بناتے ہیں، بلکہ کاروباری مواقع بھی لاتے ہیں، جس سے کسانوں اور ماہی گیروں کے روزگار کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔ سو ان پرندوں کی خوبصورتی ،کسانوں اور ماہی گیروں کے روزگار کو ایک ہی وقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے، پرندوں کے شائقین کے لیے دوربینوں، کیمروں اور دیگر آلات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے متعلقہ مینوفیکچررز اور فروخت کنندگان کو کاروباری مواقع ملے ہیں۔ دوم، فطرت سے محبت کرنے والے والدین اور بچوں میں اضافے کے باعث متعلقہ قدرتی تعلیمی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں اور ایسی تعلیمی سرگرمیوں کے کورسز بھی مقبول ہو رہے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دلفریب پرندے سیاحت کی صنعت کو پروان چڑھا تے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، صوبہ حونان میں دونگ تھنگ جھیل، گوانگ شی میں نونگ گانگ، حہ بے میں بے دائی حہ، فو جیئن میں ووئی ماؤنٹین اور دیگر مقامات پر پرندوں کا مشاہدہ کرنے کی مخصوص سیاحتی مصنوعات پیش کی گئی ہیں ۔اس وقت سنکیانگ کے بائن بلوک سبزہ زار میں راج ہنس، کھون منگ میں بلیک ہیڈڈ گل اور یان چھنگ شہر کے سرخ تاج والے سارس ان علاقوں کی پہچان بن چکے ہیں۔ تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ “سبز پہاڑ اور شفاف پانی “کے درمیان اڑنے والے پرندے خوبصورت مناظر تشکیل دیتے ہیں اور “سبز پہاڑ اور شفاف پانی ” وہ انمول اثاثے ہیں جو مقامی افراد کی بہتر زندگی کے ضامن بنتے ہیں۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress主题