طالبان سے مذاکرات میں ناکامی کا علم تھا لیکن وہ راستہ سیاسی دباؤ پر اختیار کیا تھا، وزیر دفاع

Published on December 19, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 293)      No Comments

311150-petrolPHOTOFILE-1418901920-834-640x480غیرملکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان کے ساتھ جن چار ماہ میں مذاکرات کیے گئے اس وقت ان کے خلاف فوجی آپریشن کرنا چاہئے تھا لیکن حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جبکہ ہمیں علم تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے لیکن اس کے باوجود پوری کوششیں کیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز کیا کیونکہ کئی تجربوں سے یہی سیکھا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے ان کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہوسکتا ہے اس لیے ہمیں پہلے ان کا خاتمہ کرنا ہوگا جبکہ طالبان کے خلاف کارروائی میں افغان حکومت کی حمایت بھی انتہائی ضروری ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک میں جو بھی شدت پسندی کی حمایت کرے وہ پاکستانی نہیں ہے اور یہ ایسے عناصر ہیں جو ہمارے بچوں کےقاتلوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے مددگار ہیں، ایسے لوگ ہمارے نہیں بلکہ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں پہلی بار تمام سیاسی قیادت اور جماعتیں ایک ہی پیج پر ہیں جو بہت نایاب سیاسی اتفاق ہے۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress主题