نجکاری ۔۔۔۔یا ذاتی مفاد

Published on March 9, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 410)      No Comments

logo-1
ایک بادشاہ نے اپنی سلطنت کی حدود میں اعلان کروا دیا ! ہے کوئی درزی جو مجھے دنیا میں سب سے پیارا شاہی لباس سی دے کہ جسکی برابری کوئی شاہی لباس نہ کرے اور نہ ہی اس جیسا کوئی کپڑا کسی نے پہلے پہنا ہو !!!!! ۔۔۔۔۔ بہت سے درزیوں نے اپنا ہنر آزمایا لیکن بادشاہ کو انکی محنت پسند نہ آئی اور سبھی کے سر قلم کر وا دئیے ۔کچھ عرصے کے بعد اسکی سلطنت کے آخری کنارے سے ایک شخص بادشاہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپکو ایسا شاہی سوٹ سی کے دے سکتا ہوں لیکن کپڑا بھی میرا اپنا ہو گا اور وقت بھی میری مرضی کا !! بادشاہ نے اسکی بات مان لی اور اسکو وقت دے دیا ۔کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے مشیر کو بھیجا تو اسنے دیکھا کہ درزی خالی مشین چلا رہا تھا جسکے نیچے نہ تو کوئی کپڑا تھا اور نہ ہی کوئی دھاگہ تھا ۔کچھ دن بعد پھر بادشاہ کے مشیر آئے تو انہوں نے وہی ماجرا دیکھا۔ دونوں مرتبہ کا آنکھوں دیکھا حال جب بادشاہ کو سنایا گیا تو تیسری مرتبہ بادشاہ خود اس درزی کے پاس گیا اور معلوم کیا کہ سوٹ تیا ر ہوا ہے کہ نہیں ؟ درزی نے کہا کہ بادشاہ سلامت سوٹ تیار ہے آپ دربار لگائیں اور میرے لئے انعام تیار کریں میں سب کے سامنے آپکو سوٹ پیش کروں گا !! دربار لگنے کے بعد درزی کو بلایا گیا اور اسے حکم دیا گیا کہ سوٹ پیش کرو کہاں ہے ؟ درزی نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت سوٹ میرے پاس ہے اور بہت خوبصورت سلا ہوا ہے لیکن یہ صرف اسکو نظر آئے گا جو تخم حلال ہوگا اور جسے نظر نہیں آئے گا وہ تخم حلال نہ ہو گا !! اسکے بعد درزی نے ایک صندوق کھولا اور اور اس میں خالی ہاتھ ڈالے اور خالی ہاتھ نکال کر پھیلاتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت دیکھئے کیسا عالی شان سوٹ ہے آپ کو نظر تو آ ہی رہا ہو گا !!اب بادشاہ اور باقی درباریوں کی بھی عزت پر بن آئی تھی کوئی یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ سوٹ نظر نہیں آرہا یا درزی کے ہاتھ خالی ہیں ۔بادشاہ نے حکم جاری کر دیا کہ یہ بہت عالی شان سوٹ ہے آج کے بعد میری پوری کابینہ اور سلطنت کے لوگ یہی سوٹ پہنے گے اور آخر سب ننگے گھوم رہے تھے لیکن ایک دوسرے کی تعریفیں بھی کر رہے تھے ۔۔۔!!!!!
پاکستان میں نجکاری کا جن بے قابو ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے کنارے پر کھڑا ہے ۔صاحب اقتدار تو اسے دھکا لگا ہی رہے ہیں کہ دیوالیہ ہو جائے لیکن ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا اور حکومتی پرستار بھی خوش ہیں کہ پاکستان میں بڑی ترقی ہو رہی رہے جو کہ نہایت افسوس ناک ہے جبکہ پس منظر میں حقیقت حال کچھ اورہی ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر اسی طرح نجکاری کر دی گئی تو ان اداروں سے ہونے والے منافع کا مکمل طور پر فائدہ پاکستان کو ملے گا؟ اور اگر یہ ادارے منافع بخش ہو گئے تو پاکستان میں ہی رہیں گے؟سوال یہ بھی ہے کہ کیا نجکاری کرنے سے ملنے والے پیسوں سے پاکستان پر مسلط قرض ختم ہو جائے گا ؟ نہیں ایسا نہیں ہو گا بلکہ یہ نجکاری تو صرف آئی ایم ایف اور زیادہ قرضے لینے کیلئے کی گئی ہے تاکہ اس سے لئے ہوئے سابقہ قرضے کا سو د واپس کر کے اور قرضہ لیا جا سکے اور اس سے ٹیکس کی صورت میں ایک اور مہنگائی کا اژدھا عوام کے گلے میں ڈال کر مسلط کر دیا جائے گا۔پی آئی اے کی نجکاری کی جا رہی ہے اور کہا گیا کہ یہ نقصان میں جا رہی ہے ۔حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ پی آئی اے کی ملکیت میں دو قیمتی ہوٹل ہیں اور انہیں بھی اونے پونے داموں بیچا جا رہا ہے۔اور اربو ں روپوں کی زمین کو کروڑوں میں قیمت لگائی گئی ہے جو کہ اصل میں اسکے باہر والے فٹ پاتھ کی قیمت ہے ۔جب ہر قسم کی معلومات کو جاننے کا آئینی حق ہر عام شہری کے پاس ہے تو حقیقت کو چھپایا کیوں جا رہا ہے ؟ کیوں عوام کے ساتھ سوتیلی اولاد جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ؟ کیا عوام نے مینڈیٹ ان کے ہاتھوں میں دے کرکوئی جرم کیا ہے یا حکومت نے یہ پالیسی بنا لی ہے کہ دنیا میں صرف صاحب اقتدار اور صاحب استطاعت لوگوں کو زندہ رہنے دینا ہے اور غربا ء کو ختم کر دینا ہے ؟ کیا پاکستان میں کوئی نئی قوم بسنے والی ہے کہ جو اسلامی سلطنت سے منافی ہو گی؟ کیا ان جا گیر داروں نے یہ غلط فہمی پیدا کر لی ہے کہ پاکستان صرف انکی میراث ہے ؟َاگر یہ واقعی سوچ رہے ہیں تو اپنا نقصان کر رہے ہیں ! پاکستان کو بنانے میں اتنی ہی محنت عام آدمی کی تھی جتنی لیدران نے کی ۔حکومت حقیقت عوام کے سامنے لائے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کیوں خسارے میں گئی ؟ کیا اس میں کرپشن کے ناسور حکومتی نیاز مند تھے؟ جب بھرتیاں میرٹ کی بجائے لوگوں کو نوازنے والی پالیسیوں سے ہوں گی تو کرپشن اور استحصال جیسے ناسور خود ہی پیدا ہو جائیں گے۔ادارے کو بیچنے کی بجائے اگر ان ناسوروں کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا تو یہی اداراہ پھر سے اپنی سابقہ آب و تاب سے چمک سکتا تھا ۔۔ لیکن یہاں جمہوریت نہیں بادشاہت چلتی ہے کہ جس میں صرف حکم نافذ کیا جاتا ہے اور سب کو اس حکم کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے ۔نفس و نفسی ہر درجے میں بس کر رہ گئی اور یہی عالم ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہر شخص صرف اپنی ترقی کے بارے میں سو چ رہا ہے کہ وہ خود خوشحال رہے باقی وطن عزیز کی محبت تو باتوں سے ہی ظاہر کر لیتے ہیں ۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress Blog