ہرطرف جیسے بکھر رہا ہے کوئی

Published on February 14, 2018 by    ·(TOTAL VIEWS 659)      No Comments


غزل
ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی
مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی

وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے
خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی

ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا
سفرطویل دیکھ کر مکر رہا ہے کوئی

کڑی دھوپ میں بھی تپش نہیں
ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہے کوئی

دل کے سرتال بگڑے ہوئے ہیں
مجھ سے جیسے بچھڑرہا ہے کوئی

گرد ہی گردہے اور ہم راہی
ہرطرف جیسے بکھر رہا ہے کوئی

خالد راہی

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress主题