انٹر نیشینل کراٹے کاز محمد اشرف جٹ کے اعزاز میں تقریب منعقد 

Published on March 17, 2018 by    ·(TOTAL VIEWS 348)      No Comments

ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ) انٹر نیشینل کراٹے کاز محمد اشرف جٹ کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی،بین الاقوامی سطع پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے انٹرنیشنل کراٹے ماسٹر، بہترین باکسر، کامیاب اتھلیٹ اور سماجی کارکن استاد محمد اشرف خان جٹ کے اعزاز میں تقریب منعقد کرنا ہمارے ادارے ننگر ادبی گھر ٹھٹھہ کے لئے ایک قابل فخر عمل ہے،ان خیالات کا اظہار عبدالحمید مہرانوی اور محمد صفدر ٹھٹوی نے اظہار کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خاص سید سخاوت علی سیکریٹری نیشنل مارشل آرٹس فیڈریشین پاکستان نے کہاکے استاد اشرف نے ایران، انڈیا ،ملائشیا، انڈونیشیا، امریکا اور دیگر ممالک میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ کر ملک کا نام روشن کیا ہے ،گرانڈ ماسٹر مختار احمدبلیک بلٹ ایٹ ڈان، چیئرمین نیشنل مارشل آرٹس فیڈریشن پاکستان آج یہاں جونیئر کراٹے کاز کا فن دیکھ کر خوشی ہوئی، استاد اشرف نے اپنے بہترین جانشین تیار کئے ہیں جو اپنے استاد کا مان رکھیں گے،ڈاکٹر محمد علی مانجھی نے کہا استاد اشرف خان ٹھٹھہ کا فخر ہیں انہوں نے نوجوان نسل کو صحت مند رکھا ہوا ہے، ٹھٹھہ کے لوگوں کو سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے، ان کے علاوہ محمد نصیر میمن ڈی او ایجوکیشن ٹھٹھہ، نور احمد ملک چیئرمین آل کراچی جرنلسٹ اتحاد، طارق عظیم جٹ اسپورٹس آرگنائزر کراچی، محمد شریف گجر ڈی او اسپورٹس ٹھٹھہ، غلام نبی خشک گسٹا رہنما، آصف علی قریشی، شکیل احمد بررو، سرمد علی خشک، محمد صفدر ٹھٹوی، محبوب بروہی، اعجاز علی واریو، رحم علی بلال، محمد سلمان ہالو تاج محمد بروہی آپکا صدر ٹھٹھہ، نور سرائی، علی اصغر بروہی، حامد مغل اور دیگر نے خطاب کتے ہوئے استاد محمد اشرف خان کو ان کی چالس سالہ خدمات پر ننگر ادبی گھر، ڈگری کالج ٹھٹھہ اور طائز کراٹے کلب کے میمبران کی جانب سے شیلڈ آف آرنر دی گئی، تقریب کے آخر میں جونئیر کراٹے کازوں میں انعامات اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے.
احتجاجی مظاہرہ
ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ) پاپولیشن کھاتے ٹھٹھہ کے ملازمین اور آپکا پاپولیشن ویلفیئر یونٹ ٹھٹھہ کی جانب سے محکمہ پاپولیشن کو این جی او کے سپرد کرنے والے فیصلے کے خلاف آفیسوں کو تالے لگاے کر احتجاج کرتے ہوئے مکلی آفیس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مظاہرہ کیا،اس ،موقعے پر آپکا پاپولیشن ویلفیئر یونٹ ٹھٹھہ کے رہنماہ صدر مہتاب حسین قریشی، یاسر عباس، طارق مسیح ، غلام فاطمہ ڈولو،ڈاکٹر شاہدہ میمن،رمضان بلوچ،شازیہ خان، محمد سومار سموں ،نسیم فاطمہ، سید علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے محکمہ پاپولیشن سندھ میں تمام سرکاری محکموں سے زیادہ بہتر کام کر رہا ہے ،محکمہ پاپولیشن میں تمام ملازمین محنتی بھی ہیں ،جنہوں نے رات دن ایک کرکے ادارے کو مظبوط بنایا ہے ،مگر افسوس سے کہنا پررہا ہے کے ایس محکمے کو بھی این جی اوز کے سپرد کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں ،جو کہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائیگی،انہوں نے مزید کہا کے محکمہ پاپولیشن میں کتنے ہی ملازم اور میل موبلائیزر پچھلے 20 سالوں سے کام کررہے ہیں جو ابھی تک کنفرم نہیں ہوسکے ہیں ،اسکے باوجود کے پاپولیشن میں ملازموں کی محنت اور بہترین کارکردگی کے باوجود این جی اوز کے سپرد کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں ، انہوں نے پاپولیشن کھاتے کے اعلیٰ احکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کے فوری طور پر محکمہ پاپولیشن کو این جی اوز کے حوالے کرنے کا فیصلا واپس لیا جائے اور ملازمین میں پھیلی ہوئی بے چینی کو ختم کرایا جائے ،ورنہ دوسری صورت میں آفیسوں کے ساتھ ساتھ سندھ پھر میں ہڑتالیں شروع کی جائینگی۔
فاؤنڈیشن این جی او کو دیا گیا ڈھائی کروڑ روپے کا پروجیکٹ کرپشن کی نظر
ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ) انٹرنیشنل ڈونر ادارے (یو این ڈی پی)کے جانب سے تخلیق فاؤنڈیشن این جی او کو دیا گیا ڈھائی کروڑ روپے کا پروجیکٹ کرپشن کی نظر،ٹھٹھہ ضلع کے 84 سینسز بلاکوں میں سے غریب عورتوں کے شناختی کارڈ بنانے کے پروجیکٹ فنڈزمیں خردبرد ہونے کے باعث ناکام ہوگیا،تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل ڈونر ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے کراچی کی ایک این جی او تخلیق فاونڈیشن کو ڈھائی کروڑ کا ایک پروجیکٹ دیا گیا جس کے تحت ٹھٹھہ ضلع کے پسماندہ علائقوں کے84سینسز بلاکس میں سے غریب عورتوں کے دس ہزار شناختی کارڈز بنانے تھے،جس کے لیے این جی اوز کو 80سیکرو فنڈز رلیز بھی کیے گئے مگر این جی او انتظامیہ کی جانب سے رلیز کی گئی رقم میں کرپشن کرنے کے باعث پروجیکٹ ناکام ہوگیا اور نومبر 2017 سے شروع ہونے والے پروجیکٹ کے تحت پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود صرف 207 شناختی کارڈ بن سکے، واضع رہے کے پروجیکٹ میں کی گئی کرپشن کے کچھ ت?فصیلات کے مطابق آفیس رینٹ جو 35ہزار تھا مگر آفیس مالکان کوصرف 15ہزارماہانہ دیے گئے،جبکے ڈسٹرکٹ پروجیکٹ مینجر کی تنخواہ 60ہزار ماہانہ تھی مگر اس کو 51ہزار دیے گئے،آفیس بوائے کی تنخواہ 15ہزارتھی مگر اس کو بھی 7ہزرار ماہانہ دیے گئے، سوشل موبلائیزر کی تنخواہ 27ہزار تھی مگر انکو بھی 20ہزار دی گئی،جبکے پروجیکٹ کے تحت عورتوں کے شناختی کارڈ بنانے کے موقعے پر ہر کارڈ کے ٹوکن پر90 روپے فی ٹوکن،ٹرانسپورٹ خرچے کے مد میں دینے تھے مگر کسی کو بھی ایک روپیہ نہیں مل سکا،اور عوامی آگاہی کے لیے پانچ پبلک فورم منعقد کرنے تھے جس میں ہر پروگرام کا دس ہزار روپے دینے تھے مگر کوئی پروگرام کرایا ہی نہیں گیا اور جھوٹے بلز بناکر وہ پیسے ہڑپ کرلیے گئے،دوسری جانب ہر سوشل موبلائیزر کو مختلف سینسز بلاکس میں موبلائیزیشن کے پروگرام منقعد کرنے تھے جس میں ہر پروگرام کے نو سو روپے دینے تھے مگر وہ ساڑے پیسے جھالی ووچرز کے ذریعے خردبرد کیے گئے، جبکے پروجیکٹ کے تحت نئے لیپ ٹاپ،ڈجیٹل کیمرہ، آفیس فرنیچر اور کمنیوکیشن کے مد میں بھی لاکھوں روپے جھالی بلوں کے ذریعے خردبرد کیے گئے، اور تخلیق فاونڈیشن کی ہیڈ آفیس سے پرانہ فرنیچر،پرانے لیپ ٹاپ،پرانی کیمرائیں لاکر کھانہ پوری کی گئی،اور اس طرح ڈھائی کروڑ روپے کا پروجیکٹ سارہ کا سارہ تخلیق فاونڈیشن کی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کھلی کرپشن کے نظر ہوکر ناکام ہوگیاہے، ٹھٹھہ کے سیاسی و سماجی حلکون نے یو این ڈی پی،نیب،اینٹی کرپشن،ایف آئی اے اور زمیدار حکومتی اداروں سے تخلیق فاونڈیشن کی انتظامیہ کی جانب سے نہ صرف موجودہ پروجیکٹ بلکہ اس سے پہلے بھی جو کروڑوں روپے کے پروجیکٹ مل چکے ہیں ان سب کی تحقیقات کرکے تخلیق فاونڈیشن پر پابندی لگاکر انتظامیہ کو گرفتار کرکے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرائی جائے۔
تخلیق فاؤنڈیشن این جی او کے ایک اور پراجیکٹ لانگ ٹرم الیکشن آبزرویشن میں بہی بڑے پئمانے پر کرپشن کا انکشاف
ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ) تخلیق فاؤنڈیشن این جی او کے ایک اور پراجیکٹ لانگ ٹرم الیکشن آبزرویشن میں بہی بڑے پئمانے پر کرپشن کا انکشاف ہوا ہے اس سلسلے میں مذکورہ پراجیکٹ کے ضلع سجاول کے پراجیکٹ مئنیجر اسلم میربحر نے پریس کلب مکلی میں صحافیوں سے بار کرتے ہوے کہا کے لانگ ٹرم الیکشن آبزرویشن پراجیکٹ کی بجیٹ 2 کروڑ رپیوں سے زیادہ ہے مگر اس پراجیکٹ کے تحت تخلیق فاؤنڈیشن کے سربراھ چودھری یعقوب نے ایک رپیا بہی خرچ نہیں کیا ہے کاگذات میں جعلی ملازم اور جعلی آفیس بنا رکھی ہے جب کے تخلیق فاؤنڈیشن کی ہیڈ آفیس میں دوسرے پراجیکٹ کے ملازمین کے نام اس پراجیکٹ میں ڈال کر ان کی تنخواہیں اور اخراجات ھڑپ کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کے مجھے بھی تنخواہ کی مد میں جو چیک دیا گیا ہے وہ بھی جعلی ثابت ہوا، اور بئنک سے باؤنس ہوکر واپس آیا ہے اور جب میں نے چودھری یعقوب سے شکایت کی تو مجھے بھی نوکری سے نکالنے کی دھمکی دیکر خاموش رہنے کا کہا گیا ہے اسلم میربحر میں یو ایس ایڈ اور دوسرے ڈونر اداروں سے اس پراجیکٹ کی انکوائری اور تخلیق فاؤنڈیشن کے سربراہ چودھری یعقوب کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

Readers Comments (0)




WordPress主题

Free WordPress Theme