دیسی اور ولایتی صحافت

Published on April 23, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 603)      No Comments

maher sultan
پہلے پہل صرف دیسی چیزیں ہی دستیاب ہوتی تھیں اور اسی وجہ سے عوام کے دماغ بھی دیسی چیزیں استعمال کرکے دیسی ہی رہتے تھے مگر بد قسمتی سے اب اکثریت استعمال کی چیزیں جو کہ ولایتی ہیں مارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب ہیں شائد اسی وجہ سے آجکل صحافت جیسے مقدس پیشے میں بھی کافی حد تک ولایتی دماغ اپنے اپنے خاص نظریوں کو منظر نامے پر لا نے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیںیہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ صحافت کو بھی بڑی دیدہ دلیری سے ولایتی کیا جا رہا ہے کچھ چیزوں کا ولایتی ہونا ضروری بھی ہے مگر ایک خاص حد تک زیادہ نہیں ۔تو خیر ہمارے ملک عزیز میں اس وقت ولایتی صحافت کا استعمال کچھ زیادہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے بجائے بہتری کے ہم مزید تنزلی کی طرف گامزن ہیں حالیہ ہونے والے قاتلانہ حملے پر جس طرح صحافت کی ولایتی قسم کو شدت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے وہ بہت افسوسناک ہے میرے نزدیک اگر ایک سچے صحافی پر ایسا واقعہ بد قسمتی سے رونما ہو تو اس کی سخت تر الفاظ میں مذمت ہی نہیں بلکہ عملی طور پر مذمت کی جانی لازمی ہے مگر اس کی آڑ لیکر اپنے ہی ملک عزیز کوو اغیار کے چنگل سے بچانے والے ادارے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنا شروع کر دینا کہا کی دانشمندی ہے یہ سراسر ملک دشمنی ہے مگر ایک بات جس کو سن اور پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی وہ یہ ہے کہ دیسی صحافت سے وابستہ افراد بھی اپنی صحافت کی سچائی کو ثابت کرنے لیے میدان میں تیر کمان لیکر آگئے اور انہوں نے اس تاثر کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔
نجی ٹی وی چینلز سارے ولایتی نہیں بلکہ ان میں بھی چند ایک شائد ہوں باقی سب خود کو دیسی ثابت کرنے کیلیئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں خیر بات دور نکل گئی میں جس وجہ سے یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوا ہوں وہ قارئین کا سامنے لاتا ہوں ہوا کچھ یوں ہے کہ ہمارے علاقائی صحافی بھائی جن کی بدولت ہمارے اخبارات عوام میں مقبول ہوتے ہیں ان میں اکثریت کا تعلق ولایتی صحافت کی طرف گامزن ہے اور اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہتری کا نام و نشان مٹتا جا رہا ہے مختلف واقعات کا کبھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اس میں اگر ہمارے صحافی بھائی کا کردار خوش قسمتی سے دیسی ہو تو لازمی بات ہے کہ اس واقعہ کا انجام کچھ اور ہی نکلے اور عوام بھی صحافیوں کو بلیک میلر کے نام سے نہ پکاریں اس پر مزید افسوس یہ ہے کہ میڈیاء کے بڑوں نے بھی اس پر نوٹس لینا چھوڑ دیا ہے ۔اسی وجہ آج ہمارا ایک حساس ادارہ الزامات کی زد میں آگیا ہے جو کہ انتہائی بد قسمتی ہے
پچھلے دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک واقع کی کوریج جاری تھی تو اس وقت میں بھی ٹی وی سکرین کی طرف متوجہ تھا خیر وہ ساری کاروائی میں دیکھی اور سنی اگر اس ساری کہانی کو غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کیا جاتا تو وہ صحافت کی دیسی قسم میں شمار ہوتی مگر اس میں ولایتی صحافت کا اندازعروج پر تھا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے شہر میں واقع کلنیکل لیبوں کے خلاف ایک شکایت پر سرکار کی طرف سے تو کاروائی نہ کی گئی مگر چند ولایتی صحافیوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کی ٹیم کے زریعے اور اپنی زاتی خواہشات کی تکمیل بذریعہ کرپٹ ڈاکٹر محمود اختر ملک کے کہنے پر ان مخصوص لیبارٹریوں پر جا کر ولایتی انداز میں اپنا کام مکمل کیا اس ساری کاروائی کو سماعت کرنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ہو اس سارے معاملے پر تحقیق کی جا ئے اس سلسلے میں میں نے چونیاں کا رخ کیا اور اس معاملے پر تحقیق کے لیے تگ و دو شروع کردی تو جو حقائق سامنے آئے وہ میں عوام الناس کے سامنے لانا پانی دیسی صحافتی زمہ داری سمجھتا ہوں اس انسانیت دشمن ڈاکٹر محمود اختر ملک اپنے ٹاؤٹوں کے ذریعے جعلی ادویات اور انجیکشن جن کی قیمت تو انتہائی کم ہے مگر وہ اپنے اثرورسوخ کے استعمال کرکے تحصیل ہیڈ کوارٹر کے ڈاکٹروں سے نسخے میں زبردستی اور مک مکا کرکے لکھواتا اور پیسے کمانے میں مصروف تھا وہ خود اسی ہسپتال میں تعیناتی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی اہلیہ جو کہ نااہل ہے اور نہ وہ سرکاری ڈاکٹر ہے کو زبردستی اپنے ہسپتال سرکاری میں لیڈی ڈاکٹر کے روم میں بٹھا کر اس سے الٹرا ساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ نسخے پر درج کروا کر پیسے بٹورتا تھا ساتھ میں ان لیب مالکان کو کہتا تھا کہ جو ٹیسٹ میں آپ کو فارورڈ کرتا ہوں اس میں سے پچاس پرسنٹ مجھے بھی کمیشن دو نہ دینے پر اسنے ولایتی صحافیوں کو ساتھ ملا کر ان کے خلاف چینل ٹیم کو دانستہ طور پر استعمال کیا جن دو لیبارٹریوں پر اس ٹیم نے کاروائی کی انہوں نے حلفا یہ بات بتائی کہ یہ شیطان صفت ڈاکٹر اختر ملک ان سے حصہ مانگتا تھا اور نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں مزید دیدہ دلیری یہ کہ محکمہ صحت کے افسران بھی اس کے ساتھ ملوث تھے ایک اور انکشاف کے مطابق اس مکروہ دھندے میں اس کا بھائی بھی ملوث تھا اس نے اپنے نام پر مختلف نجی مذبح کھانے نما ہسپتال کھلوا رکھے تھے جہاں پر اس کی ناتجربہ کار بیوی ڈلیوری کیسسز کو ڈیل کرتی تھی جس میں کئی اموات بھی ہوئیں مگر محکمہ صحت قصور نے کوئی نوٹس نہی لیا۔
اس اتنے بڑے سکینڈل پر محکمہ صحت کا خاموش رہنا کیا جرم نہیں ہے اس سوال کو جواب عوام سابقہ و موجودہ قائم مقام ای ڈی او ہیلتھ سے مانگتی ہے اور مزید براں کئی خبروں کی اشاعت بھی ہوئی مگر ہنوزاست ،دلی دور است حتی اس کے بڑھتے ہوئے ظلم پر لیبارٹریوں کا مالکان نے احتجاج کا فیصلہ کیا پھر سرکار حرکت میں آئی اور جناب عزت ماٰب ڈی سی او قصور نے اس بات پر ایکشن لینا مناسب سمجھا اور صرف اسکا ٹرانسفر کرکے اس کو قصور رپورٹ کرنے کا حکم دیا جو کہ آونٹ کے منہ میں زیرہ ہے چائیے تو یہ تھا کہ اس بندے کو فوری طور پر برطرف کیا جاتا۔اب اگر معاشرے کی آنکھ میں ہی یہ کام شروع ہو جائے اور ولایتی صحافت میرے اپنے شہر میں بھی عروج پر ہے جس کی وجہ سے عرصہ دراز سے ترقیاتی کام نہیں ہو سکے اگر کوئی ہوئے ہیں تو ان کے میعار پر بھی اور ساتھ میں صحافت کی ولایتی قسم پر بھی صد افسوس ہوتا ہے ایکخاص ٹولا ہے قصور میں باقی اب دیکھتے ہیں کہ کون دیسی صحافی بنتا ہے

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress Blog