تل کی برآمد سے گزشتہ برس ملکی معیشت کو 120.44 ملین ڈالرکا فائدہ ہوا محکمہ زراعت

Published on May 23, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 59)      No Comments

اوکاڑہ(یو این پی /شیخ ندیم شیراز)تل کی برآمد سے گزشتہ برس ملکی معیشت کو 120.44 ملین ڈالرکا فائدہ ہوا،
تل کی منتخب اقسام کے بیج پر2000/-روپے اور نمائشی پلاٹ لگانے پر15000روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جا رہی ہےترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ تیلدار اجناس کے رقبہ اور فی ایکڑ پیداوارمیں اضافہ کا قومی منصوبہ جاری ہے۔اس منصوبہ کے تحت رجسٹرڈ کاشتکاروں کوتل کی منتخب اقسام کے بیج پر 2000/-روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جا رہی ہے جو کہ ایک کاشتکار 20ایکڑ تک حاصل کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں زرعی آلات کی مد میں بھی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نمائشی پلاٹ بھی لگائے جا رہے ہیں جس کے لئے زرعی مداخل کی مد میں پنجاب کے منتخب اضلاع میں رجسٹرڈکاشتکاروں کی15000روپے فی ایکڑ مالی اعانت بھی کی جا رہی ہے۔ تل کی برآمد سے گزشتہ برس ملکی معیشت کو 120.44ملین ڈالرکا فائدہ ہوا۔ درمیانی اور بھاری میرا زمین جس میں پانی جذب کرنے اور نمی برقرار رکھنے کی اچھی صلاحیت ہوتل کی کاشت کے لئے موزوں ہے۔ دو تا تین مرتبہ ہل اور سہاگہ چلاکر زمین کو اچھی طرح تیار کر یں۔ زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لینڈلیولر کریں تاکہ کھیت میں ایک جیسا وتر برقرار رہے او ر فصل کا اُگاؤ اور نشوونمابہترہو۔پنجاب میں عام کاشت کے لئے سفیدتل کی منظور شدہ اقسام ٹی ایچ 6-،ٹی ایس5- ،تل 18، بلیک کنگ،نیاب ملینیم،نیاب پرل اور نیاب تل 2016 بہتر پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں۔ٹی ایچ6- کی اگیتی کاشت مئی کے مہینہ میں کریں، بصورت دیگر 15جون سے15 جولائی تک کاشت کریں۔ ٹی ایس 5-، تل۔18اور بلیک کنگ کو15جون تا15جولائی کاشت کریں۔ نیاب تل 2016، نیاب پرل اور نیاب ملینیم کو 15 جون تا31جولائی کاشت کریں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظراور علاقے کی مناسبت سے وقتِ کاشت میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔جنوبی پنجاب کے گرم اور خشک علاقے جن میں لیہ،بھکراور خانیوال وغیرہ شامل ہیں، نیاب تل 2016 اورنیاب ملینیم کی کاشت مئی کے مہینہ میں بھی کی جا سکتی ہے۔ڈرل سے کاشت کرنے کے لئے تندرست اور صاف ستھرا ڈیڑھ تا دو کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ جڑ، تنے کی سرانڈ اور اکھیڑا سے بچاؤ کے لئے کاشت سے پہلے بیج کو پھپھوندی کش زہر تھائیوفینیٹ میتھائل بحساب اڑھائی گرام اور امیڈاکلوپرڈ بحساب دو گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں۔زمین کو اچھی طرح تیار اور ہموارکرکے تر وتر میں فصل کو بذریعہ سنگل رویا سمال سیڈ ڈ ڈرل دوپہر کے بعدگرمی کی شدت کم ہونے پر کاشت کریں۔ قطاروں کا باہمی فاصلہ 45 سینٹی میٹر (ڈیڑھ فٹ) رکھیں۔ ڈرل کی ایک پور بند اور ایک کھلی رکھیں تاکہ قطاروں کا آپس میں مطلوبہ فاصلہ حاصل ہوجائے۔ پور کا سوراخ کم سے کم کردیں اور ایک ایکڑ بیج کو 6تا 8 کلوگرام ریت یا باریک مٹی میں اچھی طرح ملاکر بیج والے خانے میں ڈال کر ڈرل کریں۔ یاد رہے کہ بیج کو دوران کاشت کسی ڈنڈے سے ہلاتے یا مکس کرتے رہیں اور خیال رکھیں کہ ڈرل چوک (بند)نہ ہونے پائے۔ اگر ڈرل میسر نہ ہوتو 2تا 3 کلوگرام ریت یا باریک مٹی بیج میں اچھی طرح ملاکر ایک دفعہ کھیت کے ایک رخ اور دوسری دفعہ دوسرے رخ چھٹہ دیں تاکہ بیج اچھی طرح یکساں فاصلے پر بکھر جائے اور ہلکا ہل سہاگہ چلاکر بیج کو کھیت میں ملادیں۔ اوسط زرخیزی والی زمین میں ایک بوری ڈی اے پی +آدھی بوری ایس او پی / ایم او پی یا اڑھائی بور ی ایس ایس پی +(18%)آدھی بوری یوریا+آدھی بوری ایس او پی / ایم او پی یا ایک بوری ٹی ایس پی+ آدھی بوری یوریا+آدھی بوری ایس او پی /ایم او پی کھاد ڈالیں۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Free WordPress Theme