پاکستان ٹیلی وژن کا ایک اہم اور مضبوط ستون،ایگزیکٹیو پروڈیوسر”علی رضوی“(مرحوم)۔

Published on November 5, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 375)      No Comments

تحریرو تحقیق؛ طلال فرحت
اسکاٹ لینڈ، برطانیہ میں ”دیس پردیس“ سیریل کی ہدایات دینے والے پہلے پاکستانی پروڈیوسر
جس کام میں محبت، نیک نیتی،لگن اور جذبہ شامل ہو تو کوئی بھی کامیابی کی دیوار کو نہیں گرا سکتا
پی ٹی وی کا ایک اہم اور مضبوط ستون… آج ہم میں نہیں، مگر ان کا کام آج بھی ہمارے ذہنوں زندہ ہے
جناب علی رضوی(مرحوم) متعدد ایوارڈ یافتہ ایگزیکٹیو پروڈیوسر پاکستان ٹیلی وژن، پی ٹی وی کا بڑانام…اور پہچان…… پاکستان ٹیلی وژن کا ایک اہم اور مضبوط ستون… آج ان کے بنائے ہوئے ڈرامے پاکستان کی تاریخ کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ وہ ڈرامے آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بھی ہیں،علی رضوی صاحب سے میری وابستگی انیس سو چھیاسی سے ہے، مجھے ٹیلی وژن میں متعارف کرنے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے لہذا آج میں آپ کو ان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر رہا ہوں جو میں نے تحقیق کے بعد آپ کے لیے اسے تحریرکیا،علی رضوی پندرہ جون انیس سو اننچاس میں بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے،تقسیم ہند کے بعداپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرگئے اور کراچی میں رہائش پذیر ہوئے اورپھر یہیں سے انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا، میٹرک اور انٹر کے امتحانات پاس کر کے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر انیس سو پچھتر میں پی ٹی وی سے وابستہ ہوئے، باقاعدہ طور پرانیس سو بیاسی میں بحیثیت پروڈیوسرکا عہدہ سنبھالا، معروف پروڈیوسر شہزاد خلیل(مرحوم) کے ساتھ کچھ عرصے معاونت کے طور پر بھی فرائض انجام دیے اور یوں انہوں نے فرمان الہی، نعت کا سفر، راگ رنگ، سارے دوست ہمارے، پناہ اور دیگر پروگرام پروڈیوس کیے، زندگی کی قیمتی سال دے کر اپنی قابلیت کی بناء پر کئی معرکتہ الآراء ڈرامے، سیریز سیریل اور خاص کر مقبول زمانہ”ٹیلی تھیٹر“ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ لوگوں کے ذہنوں پر نقش کیا،جنہیں آج بھی لوگ شدت سے یاد کرتے ہیں،کراچی مرکز سے معروف تحریرنگارانور مقصود کا معرکتہ الآراء کھیل ”اور اگر جیتے رہتے“ پروڈیوس کیا اور پاکستانی عوام سے بھرپورپذیرائی حاصل کی،مزاحیہ سیریل ”فیملی نائنٹی تھری“ کے عنوان سے خوبصورت تحریر کی صورت میں کیف رضوانی (مرحوم) کے لفظوں کو مزاحیہ انداز میں چاشنی دے کراسکرین پر پیش کر کے ناظرین کو بھرپور تفریح کا موقع فراہم کیا جس میں معین اختر (مرحوم)نے خوبصورت اداکاری کر کے داد سمیٹی، انیس سو اٹھانوے میں ذوالفقار شیخ کی پروڈکشن میں اسکاٹ لینڈ، برطانیہ میں ”دیس پردیس“ سیریل کی ہدایات دینے والے پہلے پاکستانی پروڈیوسر،کہانی میں اسکاٹ لینڈ، برطانیہ کے رہن سہن پرفوکس کیا گیا تھا،سیریل کی کہانی حسینہ معین (مرحومہ) نے تحریر کی تھی، حسینہ معین کی کہانی کا تانا بانا عورت کے گرد گھومتا ہے اور حسینہ کبھی بھی عورت کو کمزور نہیں دکھاتیں، سماجی رویے بعض اوقات عورت کو کمزور تو کردیتے ہیں مگرحسینہ معین عورت کے اندر کی مضبوطی کو اس طرح سے اپنی سطروں کو کاغذ پر بکھیرتی ہیں اور لفظوں میں یہ کہہ جاتی ہیں کہ عورت کا ایک واحد یقین ہی ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کافی مضبوط ہے اور اُن کے اس یقین کو جس طرح علی رضوی نے اسکرین پر پیش کیا، جسے پوری دنیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور اس کے بعد ”آنسو“ نام کا سیریل پروڈیوس کر کے پی ٹی وی کا نام پوری دنیا میں مثبت انداز سے روشناس کرایا، اسی طرح”میرے درد کو جو زباں ملے“ کے عنوان سے ایک سیریل پروڈیوس کی جس کی تحریر حسینہ معین(مرحومہ) ہی کی تھی اور اس کا ٹائٹل سانگ ملک کی معروف گلوکارہ نیرہ نور (مرحومہ) نے اپنی آواز میں گا کر سیریل میں چار چاند لگا دیے، سیریل میں فاروق ضمیر(مرحومہ)،آصف رضا میر، شمیم ہلالی، ٹیپو شریف، رابی پیرزادہ سمیت دیگر اداکاروں نے اداکاری کر کے سامعین کے دل موہ لیے، یہی نہیں بلکہ ”میرے درد کو جو زباں ملے“ کی پروموشن کے سلسلے میں پی ٹی وی نے ایک خصوصی تعارفی پروگرام ”دی پریمیئر“کے عنوان سے ایک تقریب منعقد کی گئی جس کی کمپیئرنگ معروف ورسٹائل اداکار معین اختر (مرحوم) نے کی،مہتاب اکبر راشدی، طلعت حسین، ساحرہ کاظمی، نیرہ نور، ٹینا ثانی، بہروز سبزواری، آصف رضا میر،انجلین ملک،شمیم ہلالی،ٹیپوشریف، نعمان مسعود، ظہیر خان، قاسم جلالی اور دیگر شوبز شخصیات نے شرکت کی، نیرہ نور نے کئی سالوں بعد اپنی آواز کا جادو ”میرے درد کو جو زباں ملے“ کا ٹائٹل سانگ گا کر داد سمیٹی تھی،انیس سو اٹھاسی میں علی رضوی نے ”ڈرامہ ۸۸“ میں طویل دورانیے کا ”یور آبیڈینٹ سرونٹ“ پروڈیوس کیا جس میں ورسٹائل اداکار مرحوم شفیع محمد نے اپنی زندگی کی لازوال اداکاری کرکے دیکھنے والوں پر ایک گہرا تاثر چھوڑا، میں اس کھیل کوبھول اس لیے نہیں سکتا کیونکہ اس کھیل میں میرا بھی زندگی کا پہلا اسکرین شاٹ شامل تھا،یہی نہیں بلکہ ٹیلی تھیٹر میں ”کچھ حقیقت کچھ خواب“ کے نام سے کھیل پیش کیا جس میں معروف اداکار طلعت حسین نے اپنی بے ساختہ اداکاری سے دیکھنے والوں پر ایک الگ ہی تاثر چھوڑا، معروف تحریر نگار تاج حیدر کا ”صحرا اور سمندر“ کے عنوان سے ایک سیریل پروڈیوس کیا جس میں پرائڈ آف پرفارمنس حاصل کرنے والے بہترین اداکا ر طلعت حسین نے اداکاری کر کے پی ٹی وی کو مزید کامیابی کی طرف بڑھایا، یہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مارننگ شو”مینا بازار“ کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کا سہرا بھی علی رضوی کے سر ہے اور آج تقریبا ہر ٹی وی چینل اس کی نقل کررہا ہے مینا بازار کو بڑی کامیابی کے ساتھ مشہور و معروف میزبان عائشہ ثناء نے بڑی کامیابی سے کئی سال تک کراچی مرکز سے براہ راست پیش کیا تھا، وقت گزرتے ساتھ پھر پی ٹی وی انتظامیہ نے ان کے کام اور کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ”ایگزیکٹیو پروڈیوسر“ کے عہدے پر ترقی دی، معروف رائٹرتاج حیدرکی تحریر”درد کے فاصلے“ نامی سیرل کیا اور اس میں رابعہ نورین،قاضی واجد(مرحوم)، ناہید شبیر،لبنی اسلم،اسدملک،علی سلمان،جہانزیب گورچانی، عدنان جیلانی اور دیگر اداکاروں نے اپنی پرفارمنس پیش کی، پہلی بارلاہور کے ایک موسیقی کے شو”میوزک ۹۸“ میں معروف گلوکار ”اسٹرنگز“ کو متعارف کرانے کا سہرا بھی علی رضوی کے سر جاتا ہے،”غلام رسول بلوچ اور مجموعی پیداوار“ کے عنوان سے ایک ڈرامہ بنایا جسے تاج حیدر نے تحریر کیا، اس کھیل نے پاکستان کی سیاست میں نئی روایت ڈالی جس کا کریڈٹ علی رضوی(مرحوم) کو جاتا ہے، علی رضوی کے پرائیویٹ چینلز پر پروڈیوس کیے ہوئے سیریلز، عوام کی دلچسپی اور پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے انہوں نے ”سارے موسم اپنے ہیں“ اور”سنگم“ نامی سیریلز تخلیق کیں اور آج بھی انہیں لوگوں نے یاد رکھا ہوا ہے، علی رضوی(مرحوم) نے جہاں سیریس کام کیا وہاں مزاحیہ انداز کو بھی بڑے خوبصورتی کے انداز میں پی ٹی وی کو خوبصورت مزاحیہ سیریز اور سیریلز دیں جن میں انور مقصود کا”آفس آفس“، کمال احمد رضوی(مرحوم) کا”مسٹر شیطان“ اور”فیملی نائنٹی تھری“ کو بڑے مزاحیہ انداز میں پیش کر کے پی ٹی وی کو مزید مستحکم کیا جسے کے جملے آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں، ”چھوٹے بڑے لوگ“ نامی سیریل نے اس وقت خاص مقام حال کیا جس میں ہما نواب، صلاح الدین تونیو،روشن عطا(مرحومہ)، بہروزسبزواری، انتظار حسین(مرحوم)، تاج نیازی(مرحوم) نے خوبصورت اداکاری کی،مشہور و معروف پروڈیوسر جناب شہزاد خلیل(مرحوم) کی معاونت میں افغان مہاجرین پر بننے والا خصوصی کھیل ”پناہ“ میں بھی اپنی خدمات کو پیش پیش رکھا اور پھر کچھ عرصے بعد ”پناہ ۲“ بھی بنایا گیا اور دوبارہ ان ہی کی خدمات حاصل کیں گئیں، ”ماہ وسال آشنائی“ اور ”خوابوں کا مسافر“ نامی کھیل پیش کر کے مزید پی ٹی وی کی تاریخ میں سنہرا باب رقم کیا،اپنے وقت کا ایک معروف سیریل ”آنچ“ جسے طارق جمیل نے پروڈیوس کیا اس کا خصوصی طور پر شو ریکارڈ کیا گیا جس کے میزبان مزاحیہ اداکار و میزبان معین اختر(مرحوم) تھے، پہلی بار برطانیہ سے آئی ہوئی گلوکارہ سیما رضوی نے اپنی مدھر آواز میں گیت”تجھ کو دیکھا، تو ایسا لگا“ سنا کر نہ صرف پاکستان میں لوگوں کو مسحور کیا بلکہ پوری دنیا میں ان کی آواز کو سراہا گیا، حال ہی میں اسی نغمے کو میں نے دوبارہ سے ری ارینج کیا اورانشاء اللہ عنقریب اسے اسکرین پر پیش کرنے کا ارادہ ہے، علی رضوی (مرحوم)کا کام آج، بھی دنیا میں لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے، یقینا ہم جانتے ہیں کہ کام ہی انسان کوسب میں ممتاز کرتا ہے اور جس کام میں محبت، نیک نیتی،لگن اور جذبہ شامل ہو تو کوئی بھی کامیابی کی دیوار کو گرا نہیں سکتا،علی رضوی کی اہلیہ محترمہ زرتاج رضوی بھی پی ٹی وی، کراچی مرکز پرپروڈیوسر رہ چکیں اوروقت بدلتے ساتھ وہ ترقی پاکر جنرل مینجر کے عہدے پر بھی فائز رہ کر ریٹائر ہوچکی ہیں، ان کے ماشاء اللہ سے چار بچے ہیں،دوہزار سولہ میں آرٹس کونسل کراچی میں ان کے کاموں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب ”آ مین ودھ ایکسیلینس“ رکھی جس میں، پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی نامی گرامی شخصیات کی موجودگی میں انہیں ان کے یادگار کاموں پر پذیرائی حاصل کرنے پر ”یادگاری شیلڈ“پیش کی گئی، اس خصوصی موقع پر میری علی رضوی صاحب پربنائی ہوئی”خصوصی دستاویزی فلم“ کی اسکریننگ بھی کی گئی،علی رضوی (مرحوم) کا انتقال بائیس مارچ دو ہزار سترہ کو شہر کراچی میں ہوا اور یوں پاکستان ٹیلیوژن کا ایک درخشاں باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا، علی رضوی (مرحوم) آج دنیا میں نہیں مگرآج ان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کر کے میں بہت خوش ہوں، جو مایہ ناز ایگزیکٹیو پروڈیوسر پاکستان ٹیلی وژن جناب علی رضوی(مرحوم) کو نہیں جانتے تھے، یقینا آج ان کے بارے میں سب جان گئے ہونگے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes