کاشتکار20نومبر تک گندم کی کا شت یقینی بنائیں، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت

Published on November 18, 2023 by    ·(TOTAL VIEWS 157)      No Comments
 فیصل آباد (یو این پی/ایم ایس مہر)محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری خالد محمود نے کاشتکاروں کوہدایت کی ہے کہ وہ20نومبرتک گندم کی کاشت یقینی بنائیں تاہم اگر کسی وجہ سے اس وقت تک گندم کاشت نہ ہوسکے تو20 نومبر کے بعد گندم کی کاشت کی صورت میں شرح بیج 50کی بجائے 60کلوگرام فی ایکڑ رکھی جائے کیونکہ 20 نومبر کے بعد فصل کی کاشت کی صورت میں 50کلوگر ام فی ایکڑ بیج ڈالنے کے باعث 10سے15 کلوگرام فی ایکڑ پیداوارمیں روزانہ کی بنیاد پر کمی واقع ہو ناشروع ہو جاتی ہے جس سے کاشتکاروں کو مالی نقصان کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ گندم کی کاشت کا مناسب وقت 20نومبر تک ہوتاہے تاہم چونکہ ابھی بڑے رقبہ پر گنے کی فصل موجود ہونے، کرشنگ سیزن کا20 نومبرسے آغاز ہونے اور دھان کی کٹائی و پھنڈائی میں معمول سے ہٹ کر تاخیر کے باعث گندم کی کاشت میں بھی تاخیر ہو رہی ہے لہٰذا کاشتکارباامرمجبوری15 دسمبر تک بھی گندم کاشت کر سکتے ہیں لیکن انہیں شرح بیج میں تبدیلی لانا ہوگی۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار سفارش کردہ گندم کی اقسام ہی کاشت کریں تاکہ گندم کی کاشت سمیت پیداوار کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے بہتر پیداوار کے حصول کیلئے زمینداروں و کاشتکاروں کو ناقص و ممنوعہ بیج کی کاشت سے اجتناب کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ زمیندار و کاشتکار ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کی جانب سے سفارش کردہ و منظور شدہ گندم کی اقسام ہی کاشت کریں تاکہ بعد ازاں انہیں کسی مالی نقصان، مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے اورحکومت کو بھی گندم کی کاشت و پیداوار کے مقرر کر دہ اہداف حاصل کرنے میں کسی رکاوٹ سے دو چار نہ ہونا پڑے۔انہوں نے کہاکہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ملک کی دو بڑی صنعتوں کی بنیاد بھی زراعت پر ہی ہے لہٰذا زرعی شعبہ میں ترقی کیلئے زمینداروں، کاشتکاروں کو جدید تحقیقات کو اپنانا ہو گا تاکہ روائتی و فرسودہ طریقہ زراعت و کاشت کو خیر باد کہتے ہوئے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑاکیاجاسکے۔ انہوں نے بتایاکہ ناقص، غیر معیاری، ممنوعہ بیجوں کا استعمال زراعت کیلئے انتہائی نقصان کا باعث ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن مطلوبہ مقدار میں زرعی اجناس کابیج فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کا رلارہی ہے تاہم اگر زمینداروں یا کاشتکاروں کے پاس بیج کا ذخیرہ موجود ہو تو وہ اسے مفت محکمہ زراعت سے گریڈ کروا کر بھی کاشت کر سکتے ہیں۔
Readers Comments (0)




Weboy

Weboy