ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ

Published on August 5, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 354)      No Comments

Shahid
دنیا بھر میں مریضوں کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے شدید اکتاہت میں مبتلا ہو کر اکثر ایک دوسرے سے چہ مگوئیاں کرتے ہیں کہ یہ کیسا سسٹم ہے ہم دو تین گھنٹوں سے بیٹھے بیٹھے سوکھ گئے ہیں اور ابھی تک ہماری باری نہیں آئی مریضوں کی یہ شکایت کسی ایک شہر یا ملک میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر چھوٹے بڑے ہوسپیٹل یا کلینک کی ہے کہ کیوں دوسرے مریضوں کو ابتدائی تشخیص کے لئے پہلے بلا لیا جاتا ہے حالانکہ ہم پہلے سے انتظار گاہ میں اپنے نمبر یا باری کا انتظار کر رہے ہیں، اکثر ایمرجنسی رومز مریضوں سے بھرے اور سب اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ اب عملہ یا ڈاکٹر مجھے پکارے گا اور فوری علاج کیا جائے گا لیکن ایسا ہوتا نہیں ہر مریض کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ میں دو گھنٹے سے یہاں بیٹھا ہوں جبکہ چند منٹ پہلے آنے والے مریض کو ڈ اکٹر نے بلا لیا ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ ہوسپیٹل کا عملہ کب ،کیسے اور کن مریضوں کا تعین کرتا ہے کہ کونسا مریض پہلے علاج کیلئے ڈاکٹر ز کے پاس بھیجا جائے گا کون سا دوسرے نمبر پر اور تیسرے کی باری کب آئے گی،یہ مشکل لیکن اہم سوالات ہیں۔ دنیا بھر کے تقریباً ہر بڑے ہوسپیٹلز میں مریضوں کیلئے انتظار گاہ میں ایک نظام رائج ہے جسے ٹرائی ایج سسٹم کہا جاتا ہے اسی سسٹم کے تحت تمام مریضوں کو بالترتیب ڈاکٹرز کے پاس بھیجا جاتا ہے،ٹرائی ایج سسٹم میں مریضوں کو چار مختلف کیٹا گری ،درجہ بندی میں تقسیم کیا جاتاہے اس سسٹم کے تحت ایمرجنسی رومز میں مریضوں کو انکی بیماری اور علامات کے پیش نظر کیٹا گری یا درجہ بندی میں تقسیم کرنے کے بعد ہی ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت دی جاتی ہے کئی مریضوں کو ریسیپشن ،انفارمیشن یا رجسٹریشن کاؤنٹر پر ہی ضروری معلومات حاصل کرنے کے بعد واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے کہ آپ کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کہ ایمرجنسی ڈاکٹر سے رجوع کریں اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس جائیں۔مندرجہ ذیل منظر نامے کا تصور کریں،ایمرجنسی گیٹ کھلتا ہے اور سٹریچر پر خون میں لت پت شخص کو لایا جاتا ہے،دوسری طرف انتظار گاہ بھری پڑی ہے جہاں ایک ماں اپنے چھوٹے بچے کو گودمیں بٹھائے ہوئے ہے اور بچہ اپنا بازو سہلاتے ہوئے رو رہا ہے،ایک کونے میں عمر رسیدہ خاتون اپنے پیٹ کو دبائے بیٹھی ہے ،ایک جوان لڑکی بیٹھی آنسو بہا رہی ہے، ایک شخص کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور تقریباً چلاتے ہوئے کہہ رہا کیا ڈراما لگا رکھا ہے میری باری کب آئے گی ،کچھ لوگ آپس میں ہسپتال کے سسٹم کو ناکارہ اور نہایت سست قرار دیتے ہوئے چہ مگوئیوں میں مصروف ہیں کہ ہم دو گھنٹے سے یہاں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور ہمارے بعد آئے لوگوں کو اندر بلایا جارہا ہے،ایسے مناظر تقریباً روزانہ دنیا کے ہر ہسپتال کے ایمرجنسی رومز میں دیکھے جاتے ہیں لیکن تربیت یافتہ عملہ ہی تمام معاملات ایڈجسٹ کرتا ہے مریضوں کی رجسٹریشن کے بعد بذریعہ الیکٹرانک سسٹم مریضوں کی ایمرجینسی لسٹ ڈاکٹرز تک پہنچائی جاتی ہے اور ڈاکٹرز اپنے عملے یعنی اسسٹنٹ ڈاکٹرز یا نرسز کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس مریض کو علاج کیلئے پہلے بلایا جائے،اُس بچے کو جس کا شاید بازو ٹوٹ گیا ہے ، خاتون کو جو کونے میں پیٹ دبائے بیٹھی ہے ،کسی کو دل کا دورہ پڑا ہے ، یا اس لڑکی کو جس کی عصمت دری کی گئی یا اس شرابی کو جو نشے میں دھت ہو کر گٹر میں گرا اور ٹانگ تڑوا بیٹھا ،چونکہ یہ سب افراد مختلف مسائل سے دوچار ہیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں لیکن فوری علاج ممکن نہیں کیونکہ اکثر ہسپتالوں میں عملے کی کمی یا ٹریٹمنٹ رومز کی کمی ہوتی ہے یا عملہ کم اور غیر تربیت یافتہ ہو گا اور سب سے اہم بات اگر تمام ٹریٹمنٹ رومز پہلے سے بھرے ہوئے ہیں تو بھی فوری علاج ممکن نہیں اور طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔دنیا بھر میں مریضوں کیلئے ہسپتالوں میں رجسٹریشن اور انفارمیشن کاؤنٹر موجود ہیں جہاں ہسپتال کا تربیت یافتہ عملہ مریض کی بیماری اور علامات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظار گاہ میں بیٹھنے کا کہتے ہیں اور ڈاکٹرز کو مطلع کیا جاتا ہے،انٹرنیشنل لوجسٹک سسٹم میں فرسٹ اِن فرسٹ آؤٹ کے تحت کام کیا جاتا ہے جسے لوجسٹک زبان میں فی فو کہا جاتا ہے اسی فی فو سسٹم کے تحت دنیا بھر کے خطوط، پیکٹس اور دیگر اشیاء فرسٹ اِن فرسٹ آؤٹ کی ترتیب سے منزلِ مقصود تک پہنچائے جاتے ہیں لیکن ہسپتال کوئی کمپنی ،ادارہ یا محکمہ نہیں جہاں مریضوں کو ڈبوں کی طرح فرسٹ ان فرسٹ آؤٹ کی طرح استعمال کیا جائے یا بدیگر الفاظ کوئی سپر مارکیٹ نہیں جہاں گرینڈ سیل لگی ہے، پہلے آؤ ،پاؤ، اور جاؤ۔ کئی بار مریض خود نہیں جانتے کہ انہیں اصل تکلیف کیا ہے اور اس وجہ سے بھی عملہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ مریض کو پہلے انتظار کروایا جائے یا ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے۔ٹرائی ایج اصل میں فرانسیسی لفظ ٹرئیر کا مخفف ہے جس کے معنی درجہ بندی ، اصلاح یا ترتیب دینا ہے اسی سسٹم کے تحت عملہ ایمرجنسی مریضوں کو ترتیب دیتا ہے کہ کون شدید تکلیف میں مبتلا ہے اور کون محض نزلہ زکام کو کینسر سمجھ کر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آکر وقت ضائع کر رہا ہے،ہسپتال کے عملے کو فوری فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور شدید تکلیف میں مبتلا افراد کو فوری طور پر نرسز کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ ابتدائی تشخیص مثلاً درجہ حرارت اور بلڈ پریشر وغیرہ چیک کریں،کیس سیریس ہو تو نرسز مریض کو روک لیتی ہیں اور عام علامات ہوں تو انتظار گاہ میں بھیج دیا جاتا ہے مشکل مراحل وہ ہوتے ہیں جہاں ڈاکٹر ز فیصلہ کرتے ہیں کہ اس بچے کو دیکھا جائے جو معمولی چوٹ یا خراش آنے سے رو رہا ہے، یا اس خاتون کو چیک کیا جائے جو شاید اپینڈیکس ہونے کی وجہ سے بلبلا رہی ہے۔ٹرائی ایج کی کیٹا گری ڈیزیسٹر میں شمار ہوتی ہے ترتیب وار مختلف گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے مثلاً ریڈ۔شدید خطرے کی علامت ہے فوری علاج ۔ ییلو۔پیلا۔شدید زخمی لیکن زخم پر منحصر ہے فوری علاج۔گرین،سبز۔معمولی زخم ،کچھ دیر انتظار کیا جا سکتا ہے ، بلیو، نیلا۔انتظار کیا جا سکتا ہے ۔ ڈیزیسٹر مینجمنٹ سسٹم میں کسی مریض کو مسترد نہیں کیا جاتا شدید تکلیف یا قریب الموت افراد کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ مریضوں کی درجہ بندی یا گروپس بنانا آسان نہیں ہر وہ مریض جومعمولی زخمی ہے اسے گرین لسٹ یا گروپ میں شامل نہیں کیا جاتا۔چار قسم کے ٹرائی ایج سسٹم ہسپتالوں میں رائج ہیں اور اسی بنیادی سسٹم کے تحت تمام انسٹیٹیوشن اہم فرائض انجام دیتے ہیں دنیا بھر میں رائج چار ٹرائی ایج سسٹم مندرجہ ذیل ہیں۔اے ٹی ایس۔آسٹریلین ٹرائی ایج سکیل۔سی ٹی اے ایس۔کینیڈین ٹرائی ایج اینڈ اکیوٹی سکیل۔ایم ٹی ایس ۔ مانچیسٹر ٹرائی ایج سکیل ۔ ای ایس آئی۔ایمرجنسی سیویر ٹی انڈیکس۔ان تمام ٹرائی ایج سسٹمز میں مانچیسٹر ٹرائی ایج اور ایمرجنسی سیویرٹی انڈیکس سے عام طور پر تمام سسٹم کو پایہ تکمیل پہنچایا جاتا ہے،مثلاً مریض کی ظاہری حالت کے علاوہ اسکی علامات پر گہری نظر رکھی جاتی ہے ،کم علامات طویل انتظار ۔ماہرین کا کہنا ہے آنے والے دس برسوں میں ہسپتالوں میں فوری علاج کی سہولت کاا نتظام کیا جائے گا اور درجہ بندی سسٹم کو مکمل ختم کر دیا جائے گا ٹرائی ایج سسٹم میں مزید ترمیم کی جارہی ہیں اور دنیا بھر میں مزید تربیت یافتہ عملے کے علاوہ ہسپتالوں کو جدید تیکنیک سے آراستہ کیا جا رہا ہے تا کہ مریضوں کو طویل انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے پرانے سسٹم کو ختم کرنے کے بعد مریض رجسٹریشن کے فوری بعد ڈاکٹر کے پاس بھیج دئے جائیں گے علاوہ ازیں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں نئے انسٹرو منٹس کی انسٹالیشن کی جائے گی جس سے عملہ مریض کو فوری آگاہ کرسکے گا کہ مریض کی بیماری کتنی اہم یا غیر اہم ہے ایمرجنسی ڈاکٹر سے علاج ضروری ہے یا وہ گھر واپس جا سکتا ہے۔ شاید وطنِ عزیز میں بھی کوئی عوام کی خیر خواہ حکومت مستقبل قریب میں ایسا نظام رائج کرے جس سے غریب عوام کو تکلیف یا پریشانی نہ ہو اور باآسانی علاج ہو سکے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress主题