قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تعلیمات

Published on December 24, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 637)      No Comments
تحریر۔۔۔ شفقت اللہ
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے عظیم رہنماؤں میں ایک بڑا نام محمد علی جناح ؒ کا ہے انہوں نے ہمیشہ ظلم و بربریت کا شکار اور جہالت کے اندھیروں میں بستی مسلمان قوم کی نہ صرف مدد کی بلکہ روشنی اور مہذب زندگی کی جانب رہنمائی بھی کی انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہی انہیں اس مقام سے نوازا کہ آج بھی لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اور انہیں قائداعظم پکارتے ہیں ۔محمد علی جناح نے ہی مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی اور ایک دن اس عظیم کام کو سر انجام دیتے ہوئے الگ اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلمانوں کیلئے مذہبی آزادی ،سود اور حرام خوری سے پاک معاشرہ ،ہندوؤں اور مسلمانوں کی تفریق کر کے کمزور اور ناتواں مسلمانوں کا بنیوں کے چنگل سے آزاد کروانا اور سب سے بڑا مقصد جو قدرت چاہتی تھی وہ غزوہ ہند کے مجاہدوں کیلئے ابتدائی جگہ کی فراہمی جو اس سرزمین کے سوا کہیں موزوں ترین نہیں تھی ۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اس اسلامی ریاست کی تعمیر و ترقی اور قائم و دائم رکھنے کیلئے کئی سبق آموز تدابیر زیر غور رکھی جن میں ایک سب سے بڑی اور طاقتور تدبیر ایمان ، اتحاد ،تنظیم ،یقین و محکم والی تھی ۔اگر ہم ان پانچ الفاظ پر عمل پیرا ہو جائیں تو یہ ملک نہ تو کبھی ٹوٹ سکتا تھا اور نہ ہی ہم کبھی ایسے رسوا ہوتے جیسے آج کفار کے ہاتھوں پوری دنیا میں ہو رہے ہیں ۔ریاست کے قیام کے بعد اول دنوں میں ہی محمد علی جناح ؒ رحلت فرما گئے جسکے بعد ان کے ساتھیوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھال کے ملک کو چلانے کی بھرپور کوشش کی اور اسی اتحاد اور یقین و محکم کے دم پر ہم نے 1965 کی جنگ میں عظیم فتح حاصل کی اس کے بعد لوگ آہستہ آہستہ محمد علی جناح کی بتائے ہوئے زندگی کے رازوں سے منحرف ہونا شروع کر دیا جو کہ اب تک ہماری تباہی و بربادی اور ذلالت کی وجہ بنی ہوئیں ہیں ۔حدیث کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ساری دنیا کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس طرح جسم کے کسی حصے کو چوٹ آنے سے پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے اسی طرح اگر کسی مسلمان کو تکلیف ہو تو سبھی مسلمان اس تکلیف کو محسوس کریں گے جبکہ محمد علی جناح کا قیام پاکستان کے بعد بھی یہی سبق تھا کہ محبت و ہم آہنگی اور بھائی چارے سے ہم ایک دوسرے کی طاقت بن سکتے ہیں جس سے دشمن کو زیر کرنا انتہائی آسان ہے لیکن جیسے جیسے ہم نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور محمد علی جناحؒ کے اسباق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کی کوشش کی تو ہمارے اندر ہی اندر مادیت نے پنپنا شروع کیا جس کی حوس اور لا لچ نے حلا ل و حرام ، جھوٹ اور سچ،حق اور باطل کا فرق ہمارے دلوں سے مٹا کر طاقت اور دولت کے نشے میں ہمیں چور کر دیا یہی وجہ بنی کہ ہمیں 1971کی جنگ میں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور وہ نقصان مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے اور بنگلہ دیش کے قیام میں آنے کی صورت میں تھا ۔جس کشمیر کو محمد علی جناح ؒ نے پاکستان کی شہ رگ کے مترادف کہا تھا اسے اس ریاست کا حصہ بنانے میں ابھی تک ناکام ہیں ۔محمد علی جناحؒ نے اپنے ایک تاریخ ساز بیان میں کہا تھا کہ اس وقت برصغیر پاک و ہند میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ باقی ممالک اس سے بچے ہوئے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں کرپشن ایک بڑے ناسور کی طرح بن چکی ہے جسکو جڑ سے کاٹنے اور اس کے زہر کو اور زیادہ پھیلنے سے روکنے کیلئے امید ہے کہ آپ میرا ہر ممکن ساتھ دیں گے ۔ہم ایسا نہیں کر پائے اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا چپہ چپہ بیچ دیا گیا ہے اور ہم ایسی معاشی دہشتگردی کے متحمل ہوئے ہیں کہ آئندہ جتنے بھی ترقی کے منصوبے بنا لیں کبھی سر نہیں اٹھا پائیں گے کرپشن کا ناسور اس وقت کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے جو اب زندگی کے ساتھ ہی جائے گا ۔سود اور بدعنوانیوں نے استحصال کے ایسے باب رقم کئے ہیں کہ مسلمانیت شرما جائے ہم خود کو تباہ کرنے کے ہر اس راستے پر گامزن ہیں جو سیدھے تباہی کی جانب جاتے ہیں ہماری روح میں وہ سوز نہیں اور قلب میں وہ گرمی نہیں رہی کہ محمد علی جناح کی طرح کلمہ حق بلند کر پائیں ،غازی علم دین شہید ؒ کی مانند اسلام پر چلتی ہوئی تلوار کا قلع قمع کر سکیں اور محمد اقبال ؒ جیسا شعور نہیں کہ اپنی قوم کو بیدار کر سکیں ۔محمد علی جناح سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا تو انہوں نے فرمایا کہ میں کون ہوتا ہوں پاکستان کا طرز حکومت متعین کرنے والا پاکستان کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم میں مفصل بیان کیا جاچکا ہے اور الحمد اللہ ،قرآن کریم ہماری رہنمائی کیلئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔قرآن کریم تو موجود ہے لیکن افسوس کہ ہم نے کبھی بھی اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش نہیں کی ہم لبرل ازم اور سیکو لرازم جیسی گھٹیا اور ناپاک جمہوریت کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے ہیں مغرب کے آئین و قانون اور طر ز جمہوریت نے نہ صرف ہماری ثقافتی پذیرائی کی بلکہ ہمارے اسلامیت ،انسانیت پسند طرز زندگی کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے جو سیاست نبی کریم ﷺ اور اس کے اصحابہ کرامؓ نے کی اور اس کے بعد جس سیاست کا پیغام محمد علی جناح ؒ نے ہمیں دیا وہ کبھی بھی دین سے جدا نہیں تھی لیکن جو سیاست آج ہمارے حکمران آج کر رہے ہیں وہ انتہائی غلیظ ہے ،بد عنوانیاں ہیں ،بے ظابطگیاں ہیں،سود ہے ،استحصال ہے ،برائی ہے،بھتہ خوری ہے،وعدہ خلافیاں ہیں ،بے ایمانیاں ہیں ،ظلم و بربریت ہے،عصمت دری ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ دنیا میں غیر مہذب ہو چکا ہے آئے رو ز زلزلے ہمارا مقدر بن چکے ہیں پانی کی آفات ہمیں گھیرے رکھتیں ہیں ہم آپسی طاقت کا مزہ چکھنے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔محمد علی جناح ؒ نے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات کی درخشندہ تعلیمات و ادبیات اس امر پر شاہد ہیں کہ دنیا میں کوئی قوم جمہوریت میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی جو اپنے مذہب میں بھی جمہوری نقطہ نظر رکھتے ہیں ۔ہم آج بھی حالت جنگ میں ہیں اور یہ جنگ ہماری اپنی پیدا کردہ ہے اگر جمہوری دور میں ریاست کے تمام تقاضو ں کو پورا کیا جاتا ،جوانوں کو روزگار دیا جاتا عوام الناس تک تمام بنیادی سہولیات کی رسائی یکساں کی جاتی تو آج ہمارا ملک خوشحال ہوتا دوسرے ممالک میں جا کر خدمات دینے والا طبقہ آج اپنے ہی ملک کی خدمت کرتا اگر استحصال نہ ہوتا تو ملک آج حالت جنگ میں نہ ہوتا ۔یوں تو ہم محمد علی جناح ؒ کو اپنا قائد اعظم مانتے ہیں ان سے بے پناہ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں لیکن کیا یہ صرف زبان تک ہی محدود رہے گا ؟آخر میں محمد علی جناح ؒ کے اس پیغام کے ساتھ اختتام کروں گا انہو ں نے فرمایا کہ خیالی دنیا سے نکل آئیں اور اپنے دماغ کو ایسے پروگراموں کیلئے وقف کر دیں جس سے زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے لوگوں کی حالات بہتر ہو سکیں صرف اسی صورت میں ہم اتنے مضبوط اور طاقتور ہو سکیں جو ان مخالف اور ضرر رساں قوتوں کا مقابلہ کر سکیں جو ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں۔
Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog