ٹھٹھہ ،عالمی بینک کے تعاون سے دریائے سندھ کے مقام پر ایم ایس منارکی بند کا مرمتی کام بدستور التوا کا شکار

Published on June 2, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 306)      No Comments

ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ)عالمی بینک کے تعاون سے سجاول کے قریب دریائے سندھ کے مقام پر ایم ایس منارکی بند کا مرمتی کام بدستور التوا کا شکار ہو کر کرپشن کی نذر ہو گیاہے، حساس قرار دیئے گئے منارکی بند کی مرمت مکمل نہ ہونے سے آنے والے ممکنہ سیلاب میں قریبی علاقوں میں تباہی کے خطرات بڑھ گئے ہیں. زرائع کے مطابق منارکی بند کی مرمت کے لیئے شیر محمد مغیری نامی بااثر کنٹریکٹر کو ابتدائی طور پر 3ارب 19کروڑ 72لاکھ روپے کی خطیر رقم جاری کی گء، مقررہ معیار کے مطابق کام تو نہ ہوسکا البتہ غیر معیاری اور ناقص مٹیریل کے استعمال کے زریعے کروڑوں روپے کی رقم بچائی گئی جوکہ مبینہ طور پر متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر آبپاشی اورمزکورہ کنٹریکٹر کی جیبوں میں چلی گئی ہے . بند کی مرمت کے التوا سے سجاول اور مضافات میں مقیم ہزاروں کی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے، ماہرین کی جانب سے منارکی بند کے مرمتی کام کو غیر تسلی بخش قرار دینے اور عوامی حلقوں کے احتجاج کے باوجود متعلقہ ادارے چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے مکمل طور پر خاموش ہیں ،زرائع کے مطابق 31 اگست 2015 کو دریائے سندھ کے حفاظتی منارکی بند پر پانی کا دباو بڑھنے سے 400فٹ کا طویل شگاف پڑ گیا تھا. بعدازاں منارکی بند کے مرمتی کام کا آغاز کیا گیا لیکن دو برس گذر جانے کے باوجود مرمتی کام پایہ تکمیل نہ پہنچ سکا زرائع کا کہنا ہے کہ سات کلو میٹر سڑک کی تعمیر، ڈرینیج، بوڑانو انسپیکشن بنگلو کی مرمت اور ایم ایس بند کی اونچائی 15 فٹ سے 40 فٹ تک بڑھائے بغیر باا ثر ٹھیکیدار کام چھوڑ کر غائب ہوگیا تھا ذرائع کے مطابق بااثر ٹھیکیدارنے محکمہ آبپاشی کے افسران اور سندھ کی ایک اہم سیاسی شخصیت کی ملی بھگت سے طے شدہ رقم میں 50کروڑ روپے سے زائد کا مزید اضافہ کروالیا زرائع کے مطابق سندھ کی حکمران جماعت کے ساتھ روابط کی بناء پر مزکورہ بااثر ٹھیکیدار 2010کے سیلاب کے بعد منارکی بند کی مضبوطی کے لئے ایک ارب بیس کڑوڑ روپے کی لاگت سے پہلے بھی کام حاصل کر چکا ہے، لیکن 31 اگست 2015 کو بند میں ایک بار پھر شگاف پڑ جانے سے مرمتی کام میں کرپشن کا پول کھل کر سامنے آگیا کیونکہ دوران مرمت اسٹیل کی بجائے لوہے کی زنگ آلود پلیٹیں استعمال کی گئیں تھیں جس پر مذکورہ ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کرنے کے بجائے دوبارہ اسے 3 ارب سے زائدرقم کا ٹھیکہ دے کر نوازا گیاتھا اورسندھ کے احتسابی اداروں کی جانب سے بااثر ٹھیکیدار کے خلاف کی جانے والی تحقیقات بھی رفتہ رفتہ سرد خانے کی نظر ہو نے لگی ہیں، حالیہ دنوں ایک اہم تحقیقاتی ادارے نے مزکورہ بند کی مرمت کے کام میں کرپشن کی خبروں پرنوٹس لیا ہے اور بہت جلد مزکورہ کرپشن پر تحقیقات کا امکان ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا قومی دولت کو بے دردی سے لوٹنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا ہے یا پھر اسی روایتی تحقیقات پر ہی گزارا کیا جائے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع کونسل ٹھٹھہ کے چے60رمین کی نااہلی کے باعث پچھلے دو سالوں سے ضلع کونسل کے رٹاے60رڈ ملازمین کی پینشن التوا کا شکار
ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ) ضلع کونسل ٹھٹھہ کے چے60رمین کی نااہلی کے باعث پچھلے دو سالوں سے ضلع کونسل کے رٹاے60رڈ ملازمین کی پینشن التوا کا شکار ہوگء،چے60رمین نے سپریم کورٹ آف پاکستان، ڈاے60ریکٹر1سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ،سیکریٹری گورنمنٹ آف سندھ کے آرڈرز کو ٹھکرا دیا، تفصیلات کے مطابق ضلع کونسل ٹھٹھہ کے رٹاے60رڈ ملازمین نے روزنامہ ایمان کے نماے60ندے سے بات چیت کرتے ہوے60 کہا کے ضلع کونسل ٹھٹھہ کے چے60رمین ہماری پینشن کی رقم ہمیں اشو نہیں کررہے ہیں جبکے سپریم کورٹ آف پاکستان ،ڈاے60ریکٹر1 سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ،سیکریٹری گورنمنٹ آف سندھ29 نومبر 2016،28ڈسمبر 2016،19جنوری2017 کے آرڈر میں ضلع کونسل کو ہدایت دے چکی ہے کے ہماری پینشن کی رقم ہمیں دی جاے60یں مگر ضلع چے60رمین نے ان آرڈر کو مکمل ٹُکراتے ہوے60 ہمیں ضلع کونسل کے اکاونٹ میں پیسے نہ ہونے کا بہانہ بناکر پینشن رلیز نہیں کررہا ہے جبکے ضلع چے60رمین منتخب ہونے سے پہلے ضلع کونسل کے اکاونٹ میں 11کروڑ موجود تھے اور اس کے بعد انہیں 16 کروڑ اور رلیز ہوے60 ہیں مگر ہماری پینشنوں اور پرووڈنٹ فنڈس کے لیے60 ہمیں آفیسوں کے مسلسل چکر کٹوا رہا ہے، انہوں نے مزید بتاتے ہوے60 کہا کے ضلع کونسل کے اکاونٹنٹ نے رٹاے60رڈ ملازمین سے چالیس سے پچاس ہزار کی رشوت لینے کے باوجود ہمیں روزانہ آفیس میں بلواکر گھنٹوں بٹھاکر واپس کر دیتا ہے انہوں نے مزید بتاتے ہوے60 کہا کے ریٹاے60رڈ ملازمین میں سے تین افراد سید زاہد حسین شاھ ،شیر محمد سموں،نور احمد ببر فوت ہوچکے ہیں اور ان کی بیواوں کو بھی آفیس کے چکر کٹواے60 جا رہے ہیں ، انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ اور بالا احکام سے گذارش کی کے خداراچے60رمین ضلع کونسل ٹھٹھہ اور اکاوٹنٹ ضلع کونسل کے اوپر تحقیقات کروائ جاے60 اور ہمیں ہمارے پرووڈنٹ فنڈس اور پینشن رلیز کرائ جاے60،انہوں نے جزباتی ہوتے ہوے60 کہا کے اگر ہمیں ہمارے پرووڈنٹ فنڈس اور پینشن نہ دی گئ تو ہم ضلع کونسل ٹھٹھہ میں اپنے آپ کو آگ لگادینگے، اس سلسلے میں جب چے60رمین ضلع کونسل ٹھٹھہ کے غلام قادر پلیجو سے موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کے میں اس معاملے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں آپ سیکریٹری بلدیات سے رابطہ کریں اور ضلع کونسل کو پینشنرز کے لیے60 کوئ بجٹ نہیں مل رہی ہے، یاد رہے کے چے60رمین ڈسٹرکٹ کونسل غلام قادر پلیجو کے اوپر پہلے ہی سے نیب میں کیس چل رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیسکو انتظامیہ کی جانب سے24گھنٹوں میں سے صرف 6 گھنٹے بجلی کی فراہمی

ٹھٹھہ(رپورٹ:حمیدچنڈ)ٹھٹھہ ضلع میں بھرتی ہو ئ شدید گرمی کے باوجود حیسکو انتظامیہ کی جانب سے24گھنٹوں میں سے صرف 6 گھنٹے بجلی کی فراہمی دی جانے لگی، 6 گھنٹے کی موجود بجلی میں بھی وولٹیج 100 سے 120 آنے لگے جس کی وجہ سے بجلی پر چلنے والی تمام اشیاء خراب ہونے لگیں ہیں،تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ ضلع میں بلخصوص ٹھٹھہ اور مکلی شہر میں رمضان شریف کی آمد کے ساتھ ہی پہلے روزے کی سحری سے لیکر چھٹی سحری تک ٹھٹھہ اور مکلی کی عوام کو تنگ کرنے کے لیےْ بلاجواز بجلی کا بریک ڈاون کرنا معمول بنا دیا گیا ہے ، 24 گھنٹوں میں سے صرف 6 گھنٹے بجلی کی فراہمی دی جانے لگی، 6 گھنٹے کی موجود بجلی میں بھی وولٹیج 100 سے 120 آنے لگے جس کی وجہ سے بجلی پر چلنے والی تمام اشیاء خراب ہونے لگیں ہیں، شہریوں کی جانب سے آےْ دن نیشنل ہائ وے اور پریس کلبوں کے آگے مظاہرے بھی معمول بنتے جارہے ہیں مگر حیسکو انتظامیہ ٹھٹھہ کے کان پر جوع بھی نہیں رینگتی، شہریوں کا کہنا ہے کے ایک تو پورے شہر میں بجلی نہیں ہے اوپر سے واپڈا کے بلوں میں ڈڈکشن بھی لگ کر آئ ہے، ایک کاروباری افراد کا کہنا تھا کے میرا بجلی کا بل ہمیشہ چار ہزار سے پانچ ہزار آتا تھا اور میں نے کبھی بھی چوری نہیں کی مگر اس کے باوجود بھی اس ماہ جس میں بجلی کم سے کم رہی ہے اس میں میرا بل پندرہ ہزار سے بھی اوپر آگیا ہے، اس سلسلے میں جب وہ ایکسین آفیس گیا تو دن کے بارہ بجے ایکسین آفیس کوئ بھی نہیں تھا سواےْ بھاگتے ہوےْ کتوں کے، دوسری جانب ٹھٹھہ اور مکلی کی عوام نے منتخب نماےْندوں کے بارے میں بھی بتاتے ہوےْ کہا کے پیپلز پارٹی کے منتخب نماےْندوں نے ہمیشہ یہاں کی مقامی عوام کو دوکھا دیا ہے، اورآج بھی دے رہے ہیں جبکے شیرازی برادران مسلم لیگ (ن) میں ہونے اور وزیرِ اعظم پاکستان کو ٹھٹھہ بلاکر بھی ٹھٹھہ ضلع کی عوام کو کوئ رلیف نہیں دلاپاےْ، جبکے شیرازی برادران نے ہمیشہ ضلع کی عوام خدمت کو اپنا مقصد رکھا ہے پر پھر بھی وہ وفاقی حکومت میں رہنے کے باوجود کچھ کرنہیں پارہے ہیں، ٹھٹھہ مکلی کی عوام نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ اختیارات سے مطالبہ کرتے ہوےْ کہا ہے کے ٹھٹھہ ضلع میں حیسکو انتظامیہ کے اوپر تحقیقات کروائ جاےْ ، شہریوں نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں گرڈ اسٹیشن کو جلاکر ختم کردینگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes