جھنگ میں بلدیاتی انتخابات   


کو شائع کی گئی۔ December 1, 2015    ·(TOTAL VIEWS 1,618)      No Comments

shafqat1
تحریر۔۔۔ شفقت اللہ
صوبہ پنجاب میں باقی اضلاع کی طرح ضلع جھنگ میں بھی بلدیاتی انتخابات 2015 ؁ء تیسرے مرحلے میں 5 دسمبر کو منعقد ہونگے ۔ضلع جھنگ کے ٹوٹل 109 سٹی وارڈز اور 91 یونین کونسلوں میں ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 22 ہزار 687 ہے جن میں 6 لاکھ 99 ہزار 540 مرد ووٹرز جبکہ 5 لاکھ 23 ہزار 147 خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں جن کیلئے ٹوٹل 1ہزار75پولنگ اسٹیشنز اور ان میں 2ہزار918 پولنگ بوتھ قائم کئے جائیں گے ۔جبکہ ضلع جھنگ کی چار تحصیلوں اٹھارہ ہزاری ،احمد پور سیال ،شورکوٹ اور جھنگ کی کل آبادی 29لاکھ کے قریب ہے ۔
ضلع کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل جھنگ ہے جس میں سٹی وارڈز کی کل تعداد 50 ہے اور یونین کونسلوں کی تعداد 44 ہے ۔سٹی وارڈز میں 1لاکھ 15 ہزار 688 مرد ووٹرز اور 95 ہزار 767 خواتین ووٹرز ٹوٹل 2لاکھ 11ہزار455 ووٹرز جبکہ تحصیل یونین کونسلوں میں 2 لاکھ 70ہزار 955 مرد ووٹرز اور 2لاکھ 6ہزار 420 خواتین ووٹرز ٹوٹل 4 لاکھ 74 ہزار 375 ووٹرز ہیں اس طرح تحصیل جھنگ میں ٹوٹل 6لاکھ 85 ہزار 830 مردو و خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔50 سٹی وارڈز میں کل 162 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جن میں 81 مردوں اور81 عورتوں کیلئے ہیں اور ان 178پولنگ بوتھ خواتین کیلئے جبکہ 206 پولنگ بوتھ مردوں کیلئے ٹوٹل 384 پولنگ بوتھ قائم کئے جائیں گے ۔یونین کونسلوں کیلئے ٹوٹل 416 پولنگ سٹیشنز بنائے جائیں گے جن میں مردوں اور عورتوں کیلئے 11،11 الگ الگ جبکہ 394 پولنگ سٹیشنز کو کمبائنڈ رکھا گیا ہے اور ان میں ٹوٹل 1ہزار 222 پولنگ بوتھ قائم کئے جائیں گے جن میں 662 مرد وں کیلئے اور 560 خواتین ووٹرز کیلئے مختص کئے جائیں گے ۔تحصیل جھنگ کی 43 یونین کونسلوں میں 182 پینل الیکشن مین حصہ لے رہے ہیں جبکہ یونین کونسل آٹھ سے مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ مہر اسلم بھروانہ پہلے ہی بلا مقابلہ چئیرمین اور ان کے وائس چئیرمین محمد انور منتخب ہو چکے ہیں۔ ان یونین کونسلوں کیلئے مسلم لیگ ن نے 24 ،پاکستان تحریک انصاف نے چار اور مسلم لیگ ق نے ایک یونین کونسل میں ٹکٹ جاری کیا ہے ۔جبکہ ان یونین کونسلوں کے مختلف وارڈزسے 40کونسلر بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں ۔یہاں پر بلدیہ کی سیٹ کیلئے ن لیگ بمقابلہ ن لیگ ہے ایک دھڑا ایم پی اے کی حمایت یافتہ ہے جبکہ دوسرا ایم این اے کی حمایت یافتہ ہے ۔یہاں پر انتخابات کے حوالے سے حالات بہت کشیدہ ہیں اور جسیے جیسے وقت نزدیک آ رہا ہے یہ کشیدگی دونوں دھڑوں کے مابین سنگین صورتحال اختیار کر رہی ہے ۔
تحصیل شورکوٹ میں کل سٹی وارڈز 23 جبکہ کل یونین کونسلوں کی تعداد 20 ہے ۔سٹی وارڈ میں کل ووٹرز کی تعداد19 ہزار 938 ہے جن میں 10ہزار 750 مرد ووٹرز جبکہ 9 ہزار 188 فی میل ووٹرز ہیں ۔اسی طرح تحصیل کی 20 یونین کونسلوں میں ووٹروں کی کل تعداد 2لاکھ 4 ہزار140 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 1لاکھ 21ہزار 197 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 82ہزار 943ہے اس طرح تحصیل شورکوٹ میں یونین کونسلوں اور سٹی وارڈزمیں کل 2لاکھ 24 ہزار 78 مردو خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی 5دسمبر کو استومال کریں گے ۔تحصیل شور کوٹ کے سٹی وارڈز کیلئے کل 23 پولنگ سٹیشنز مقرر کئے جائیں گے جو سارے کے سارے ہی کمبائنڈ رکھے گئے ہیں جبکہ ان میں کل 40 پولنگ بوتھ قائم کئے جائیں گے جن میں 20 مرد ووٹرز کیلئے اور 20ہی خواتین ووٹرز کیلئے مقرر کئے گئے ہیں ۔تحصیل کی کل 20 یونین کونسلوں میں پولنگ سٹیشینز کی کل تعداد 184 ہے جن میں 183 کمبائینڈ اور صرف ایک مرد ووٹرز کیلئے الگ سے مقرر کیا گیا ہے ان پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ بوتھ کی کل تعداد 510 ہے جن میں سے 292 پولنگ بوتھ مرد ووٹرز کیلئے اور 218 پولنگ بوتھ خواتین ووٹرز کیلئے قائم کئے جائیں گے۔تحصیل شورکوٹ کی 20یونین کونسلوں میں چئیر مین اور وائس چئیرمین کے 82پینل الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ اس تحصیل میں چئیرمین اور وائس چئیرمین کیلئے مسلم لیگ ن نے چھ جبکہ پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے ایک ایک پینل کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے ہیں جبکہ یہاں مسلم لیگ ق کا ووٹ بنک بھی موجود ہے جبکہ ق لیگ کے دو امیدوار برائے کونسلر بلا مقابلہ منتخب بھی ہو چکے ہیں ۔تحصیل کی 20یونین کونسلوں سے 27امیدوار برائے کونسلر پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں ۔جبکہ اس تحصیل کا موضع ڈھن میانی کا ایک وارڈ ایسا بھی ہے جہاں سے کسی بھی امیدوار نے کونسلر کی نشست کیلئے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔
تحصیل احمد پور سیال میں سٹی وارڈز کی کل تعدا د 25 جبکہ یونین کونسلوں کی تعداد 16 ہے ۔کل 25 سٹی وارڈ ز میں 30 ہزار 909ووٹرزہیں جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 17ہزار 549 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 13ہزار 360 ہے ۔اسی طرح تحصیل کی 16یونین کونسلوں میں کل ووٹرز کی تعداد 1لاکھ53ہزار567ہے جن میں 90ہزار107 مرد اور 63ہزار 460 خواتین ووٹرز شامل ہیں ۔تحصیل احمد پور سیال میں ٹوٹل ایک لاکھ 84ہزار476 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔تحصیل کے سٹی وارڈز میں کل ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے کل 32پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے جن میں 7 مردوں کیلئے اور 7ہی خواتین ووٹروں کیلئے پولنگ اسٹیشنز اور 18 پولنگ اسٹیشنز کمبائنڈ رکھے گئے ہیں ۔ان پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ بوتھ کی کل تعداد 65ہے جن میں 36پولنگ بوتھ مردووٹوں کیلئے اور 29 پولنگ بوتھ خواتین ووٹروں کیلئے قائم کئے گئے ہیں جبکہ تحصیل کی16 یونین کونسلوں کیلئے قائم کئے گئے پولنگ اسٹیشنز کی کل تعداد 139 ہے جن میں ایک ،ایک پولنگ اسٹیشن الگ الگ جبکہ 137 پولنگ اسٹیشنز کو کمبائنڈ رکھا گیا ہے ۔ان پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ بوتھ کی کل تعداد 402ہے جن میں 222پولنگ بوتھ مرد ووٹروں کیلئے اور 180پولنگ بوتھ خواتین ووٹروں کیلئے قائم کئے جائیں گے ۔تحصیل کی 16یونین کونسلوں سے چئیرمین اور وائس چئیرمین کے لئے 49 پینل ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں اور ان یونین کونسلز میں مسلم لیگ ن کی جانب سے چئیرمین اور وائس چئیرمین کی نشست کیلئے 12 پارٹی ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں جبکہ اور کسی بھی پارٹی کا کوئی بھی امیدوار پارٹی کے نشان پر انتخابات نہیں لڑ رہا ہے ۔تحصیل کی 16یونین کونسلوں کے مختلف وارڈ ز سے کونسلر کے 9امید وار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل ہی قائم ہونے والی جھنگ کی چوتھی تحصیل اٹھارہ ہزاری میں کل سٹی وارڈز کی تعداد 11ہے اور تحصیل یونین کونسلوں کی تعدا د بھی 11 ہے ۔تحصیل کے 11 سٹی وارڈز میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 11 ہزار 711ہے جن میں چھ ہزار 825 مرد اور چار ہزار 886 خواتین ووٹرز شامل ہیں جبکہ تحصیل کی 11یونین کونسلوں میں کل ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ تیرہ ہزار 592 ہے جن میں 66 ہزار469مرد ووٹرز اور 47ہزار 123خواتین ووٹرز شامل ہیں اس طرح تحصیل اٹھارہ ہزاری میں سٹی وارڈز اور یونین کونسلوں میں کل1لاکھ 25ہزار 302مردو خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔تحصیل کی 11یونین کونسلوں میں چئیرمین اوروائس چئیرمین کیلئے 47 پینل الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان یونین کونسلوں کے مختلف وارڈز سے کل 10کونسلر بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں ۔جبکہ تحصیل کی یونین کونسل 84سے آزاد امیدوار برائے چئیرمین محمد اقبال خان جبوآنہ اور ان کے وائس چئیرمین کے امیدوار مہدی خان بلوچ پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں ۔تحصیل اٹھارہ ہزاری میں کوئی بھی پینل کسی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑ رہا ہے لیکن یہاں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ ن بمقابلہ مسلم لیگ ن کے حالا ت پیدا ہو گئے ہیں ۔
ضلع بھر میں بلدیاتی الیکشن کو کنڈکٹ کروانے کیلئے 20 ریٹرننگ آفیسرز تعینات کئے گئے ہیں اور باقی پولنگ عملے کی تعداد 9ہزار215 ہے ۔جبکہ پولنگ کیلئے تمام سامان ریٹرننگ آفیسران کے سپرد کیا جا چکا ہے جبکہ پولنگ عملے اور پولنگ سامان کی ترسیل کیلئے ٹرانسپورٹ کا پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے جس کیلئے کل 217گاڑیاں استعمال کی جائیں گی۔پولنگ عملے میں پریزائیڈنگ افسران اور اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران کی تعداد 2ہزار 150ہے جن کی ٹریننگ بھی مکمل کروائی جا چکی ہے ۔ضلع جھنگ میں بلدیاتی انتخابات میں دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے علاوہ باقی جماعتوں میں جماعت اسلامی ،جمیعت علماء اسلام ف ،راہ حق پارٹی ،پیپلز پارٹی ،پاکستان عوامی پارٹی اور آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں جبکہ ضلع بھر میں لوگوں کا بلدیاتی انتخابات میں سیاسی پارٹی یا سیاسی نظریے کی بجائے شخصی ووٹ پر زیادہ انحصارہے ۔
ضلع بھر کی 91یونین کونسلوں سے چئیرمین اور وائس چئیرمین کے 362 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جبکہ ضلع بھر کے 109 سٹی وارڈز سے کونسلر کی نشستوں کیلئے 2ہزار 69 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ضلع بھر کے 1ہزار 75پولنگ اسٹیشنز کوسیکورٹی کے اعتبار سے مختلف اے پلس ،اے اور بی کیٹٰگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اے پلس کیٹیگری کے 134،اے کیٹیگری میں 333پولنگ اسٹیشنز رکھا گیا ہے جبکہ باقی تمام کو سیکورٹی کے اعتبار سے بی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے ۔جنکی سیکورٹی کیلئے ضلع میں مجموعی طور پر10 ہزار 533 اہلکار سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے ۔سیکورٹی پلان کے مطابق انتہائی حساس پولنگ سٹیشن پر 13 اہلکار ،اے کیٹیگری کے پولنگ اسٹیشن پر 10 اہلکار اور بی کیٹیگری کے پولنگ اسٹیشن پر چھ اہلکار تعینات کئے جائیں گے ۔الیکشن ڈیوٹی کیلئے تعینات کئے گئے سیکورٹی اہلکاروں میں تین 885 کانسٹیبل ،713 ہیڈ کانسٹیبل ،58 سب انسپکٹر و اسسٹنٹ سب انسپکٹر ،26 ڈی ایس پی ،چار ایس پی ،60 کانسٹیبل بطور گن مین ،ایک ہزار 551 رضا کار اور سپیشل پولیس کے تین ہزار 719 اہلکار شامل ہیں ۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق الیکشن کے روز پولیس کے علاوہ فوج کی چار کمپنیاں اور رینجرز کی ایک کمپنی کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔فوج اور رینجرز مقامی انتظامیہ کی مدد کیلئے موجود رہے گی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئیک ریسپانس فور س کے طور پر کام کرے گی ۔
پنجاب بھر کے تمام اضلاع کی طرح ضلع جھنگ میں بھی حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کی اکثریت کا امکان ہے جبکہ ضلع بھر میں تعلیم ،خوراک اور صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

Readers Comments (0)




WordPress主题
Free WordPress Theme