امام کعبہ کا پیغام

Published on May 4, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 348)      No Comments

Rana Aijaz sada e waqt
گزشتہ جمعتہ المبارک کے روز فیصل مسجد اسلام آباد میں امام کعبہ ڈاکٹر شیخ خالد بن علی الغامدی نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو عصر حاضر کے چیلنجوں سے نبٹنے کے لیے اتحاد و یکجہتی قائم کرنے اور تفرقہ بازی سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے، انہوں نہ کہا کہ جب ہم سب کا دین ، خدا ، نبی اور کتاب ایک ہے تو پھر تفرقوں میں بنٹنے کا کیا جواز ہے۔ اسلام امن کا مذہب اور امن و سلامتی کا دین ہے ۔ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دے کر اخوت و بھائی چارے کا عالمگیر نظام قائم کردیا ہے، مسلمان ایک دوسرے کے مسائل سے الگ نہیں رہ سکتے، کیونکہ پوری امت مسلمہ کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے۔ آج امت کو حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج مسلمانوں کو تفرقوں میں بٹ کر خود کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسائل اور مشکلات سے راہ نجات صرف قرآن کریم اورسنت رسول پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے مابین اتفاق و اتحاد کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ فیصل مسجد میں امام کعبہ کی امامت میں اڑھائی لاکھ سے زائد افراد نے نماز جمعہ ادا کی ، اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین سمیت آہم انتظامی و سیاسی شخصیات سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کی بڑی تعداد نے امام کعبہ کا خطبہ خصوصی دلچسپی سے سنا۔اس کے بعد امت مسلمہ میں اتحاد و یکجہتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
بے شک امام کعبہ نے درست فرمایا ، باہمی فرقہ وارانہ اختلاف ایک ایسا ناسور ہے جو عالم اسلام میں جڑ پکڑتا ہی چلاجارہا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں ۔ دنیا کے 192 ممالک میں سے ساٹھ کے قریب ممالک مسلمان ہیں۔دنیا کے چھ ارب کے قریب انسانوں میں سے دو ارب کے قریب مسلمان ہیں۔ اور دنیا کے معدنی ذخائر میں 75 فیصد کے مالک ہیں۔ اگر ان کے پاس کچھ نہیں ہے تو دور اندیش، نڈر اور بہادر قیادت نہیں ہے۔ اگر نہیں ہے تو اتحاد نہیں ہے ،اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے وجوہ میں ایک عالمی طاقتوں کے سامراجی ذہنیت ، چالبازیاں، اور پوری دنیا پر حکمرانی کا منصوبہ ہے، مگر اس سے بڑھ کر عالم اسلام اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا فقدان اور اختلافات کا ناسور ہے۔ ایک طرف سامراج اور اس کے پالیسی ساز ادارے عالم اسلام کو کسی صورت متحد نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ ایک ایجنڈے کے تحت عالم اسلام کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے آرہے ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کا آپس کا اختلاف ہے ۔ عالم اسلام کے ممالک اور ان کے حکمرانوں میں اتحاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں ۔حزب اقتدار اور اختلاف میں ذاتی دشمنیاں اور عناد ہیں۔ دینی اور مذہبی جماعتوں ، اداروں اور رہنماؤں میں اتنا اختلاف ہے کہ بغیر کسی دلیل کے ایک دوسرے کو مفافق ، ملحد اور ایجنٹ ہونے کے القاب دیتے ہیں۔صوبائیت ، لسانیت، قومیت اور وطنیت کے جھگڑے ہیں۔مسلمان مسلمان کا ہی گلا کاٹ رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر خودکش حملے ہورہے ہیں۔ ایک اللہ ، ایک نبیؐ اور ایک قرآن کو ماننے والے ایک دوسرے کے جانی اور ازلی دشمن معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے۔ آپس میں محبت ،اخوت، بھائی چارہ، ایمان واتحاداور یقین مسلمانوں کا موٹو ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجتہ الوداع میں حکم فرمایا تھا ’’ دیکھو ! باہمی اختلاف میں نہ پڑنا۔‘‘ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا حکم ہے ’’ ولاتفرقوا‘‘ ’’اختلاف ہرگز ہرگز نہ کرو۔‘‘ تاریخ اٹھا کر دیکھیں اختلاف ہی کی وجہ سے قوموں اور ملکوں کو بڑے بڑے نقصان اٹھانا پڑے ہیں۔ اختلاف ہی کی وجہ سے مسلمان ممالک پستی اور ذلت کا شکار ہیں۔ غربت، مہنگائی، بدامنی، لاقانونیت ، بے روز گاری، جہالت، انتقام، لوٹ مار، ڈاکے، اغوا، قتل و غارت جیسے موذی امراض اختلاف ہی کا نتیجہ ہیں۔دوراندیش حکمران اور سیاست دان اور رہنماء اسی اختلاف کا شکار ہوکرہیرو سے زیرو بنے ہیں۔
آج امت مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہم ساٹھ کے قریب اسلامی ممالک ہیں۔ 2 ارب مسلمان ہیں۔ ہم بہت طاقتور ہوسکتے ہیں، بشرطیہ اختلاف کے ناسور سے نکل آئیں۔ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لیے اس وقت سب سے آہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔ جس طرح جب روس اپنے آپ کو ناقابل تسخیر قوت سمجھتا تھا، اسی لیے وہ کئی ریاستوں پر قبضہ جما چکا تھالیکن افغان سرزمین پر جیسے ہی اس کا غرور خاک میں ملا تو یہ سب مقبوضہ ریاستیں اس کے خونی پنجے سے آزاد ہو گئیں۔ اسی طرح جب تک موجودہ وقت کے طاغوت کے لیے کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہیں ہوجاتی اس وقت تک مسلم ممالک پر کسی نہ کسی شکل میں اس کا تسلط قائم ہی رہے گا اور مسلمان پستے رہیں گے۔اس وقت سب سے آہم کام استعمار کو نکیل ڈالنے کا ہے اور یہ تمام مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کے بغیر ناممکن ہے۔ امام کعبہ نے مسلمانوں پر زور دے کر کہا وہ باہمی اختلاف ختم کردیں۔ انہوں نے مسلمان ملکوں کی نا اتفاقی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا مسلمان اتحاد جیسے آہم اسلامی اصول کو بھلا بیٹھے ہیں ۔
آج یہ دیکھ کر صد افسوس ہوتا ہے کہ عالم کفر تو متحد ہے مگر عالم اسلام تفرقے بازی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ بلاشبہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے ان میں فرقہ واریت کو بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن مسلمانوں کو اس صورتحال سے پریشان ہونے کی بجائے اس سے نجات کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہیے۔ کاش !آج عالم اسلام امام کعبہ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحد ہوجائیں، بلاشبہ اتفاق و اتحاد میں ہی تمام عالم اسلام کی فلاح و کامیابی ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Free WordPress Theme